مینوں اَکّ سوادی لگے| Mainu Akk Suwadi Lagge | Punjabi Kalam | Heart Touching poetry
Blue Diamond
0:00 / 0:00
مینوں اَکّ سوادی لگے| Mainu Akk Suwadi Lagge | Punjabi Kalam | Heart Touching poetry
210 просмотров · 12 дн. назад
Blue Diamond
125 подписчиков
210 просмотров · 12 дн. назад
مینوں اَکّ سوادی لگے ایک درد بھرا پنجابی کلام ہے جس میں بہار کے پھولوں کے درمیان ہجر کی اداسی، یادوں کی ٹیس اور دل میں باقی رہ جانے والی امید محسوس ہوتی ہے۔ ویڈیو کے مناظر اس سفر کو تنہا پگڈنڈی سے سُکھ کے روشن دیے تک لے جاتے ہیں۔
سیو نی! مینوں اَکّ سوادی لگے
پِیڑاں ہیٹھ ہنڈاواں جِندڑی، ساہواں دے وچ کھگّے
اے میری سہیلیو (سیو نی)! اب مجھے ’اک‘ (صحرا کا ایک کڑوا اور زہریلا پودا) بھی ذائقہ دار لگنے لگا ہے۔ میں اپنی زندگی کو شدید درد اور تکلیفوں کے سائے میں گزار رہی ہوں، اور اب تو میری سانسوں میں بھی جیسے کانٹے چبھتے ہیں یا کھانسی/درد کا بسیرا ہو گیا ہے۔ یعنی دکھ اب میری زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
چیتر ماہی سجری واء نال، کِھڑن پُھلاں دے ڈوڈے
میں قبراں ول ٹُردا جاواں، لا ہجراں نُوں موڈھے
ساہوں ٹُر کنڈیالیاں چِیکاں، آ رُکیاں شاہ رگے
چیتر (بہار کے مہینے) میں جب محبوب کی یاد دلانے والی تازہ ہوا چلتی ہے اور پھولوں کی کلیاں کھلتی ہیں، تو ایسے خوبصورت موسم میں بھی میرا حال یہ ہے کہ میں جدائی کے دکھوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے موت (قبروں) کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میری سانسوں سے اب کانٹے دار چیخیں نکل رہی ہیں، جو آ کر میری شاہ رگ پر رک گئی ہیں (میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں)۔
میری اتھری آس تے سوں گئی، رات ہٹکورے بھر دی
اوسے رات اک گُھگی مر گئی، پالے دے وچ ٹھر دی
ٹِیساں والی لہر نے کیتے، پُھلاں دے رنگ بگّے
میری وہ امید جو کبھی بے چین اور سرکش ہوا کرتی تھی، وہ اس رات سسکیاں بھرتے بھرتے سو گئی (ختم ہو گئی)۔ اسی سرد رات میں ایک بے قصور فاختہ (گھگی) بھی ٹھنڈ سے ٹھٹھر کر مر گئی۔ درد اور ٹیسوں کی ایسی لہر اٹھی ہے جس نے مسکراتے ہوئے پھولوں کے رنگ بھی اڑا کر انہیں سفید (بے جان) کر دیا ہے۔
ساہواں پلّے دُکھ چِنتا دے، ہنجو سلُونے رِدھے
جے کوئی دُکھدی رگ نُوں چھیڑے، ہس ہس پاواں گِدھے
ہتھ دے چھلّے دیواں جیکر، سُکھ دا دِیوا جگے
میری سانسوں کے پلو میں صرف دکھ اور فکریں بندھی ہوئی ہیں، اور میرے نمکین آنسو جیسے اندر ہی اندر پک رہے ہیں۔ اب میں نے اپنے دکھوں سے یہ رشتہ بنا لیا ہے کہ اگر کوئی میری دکھتی رگ کو چھیڑے، تو میں تڑپنے کے بجائے ہنس ہنس کر گدھا (پنجابی لوک رقص) ڈالنے لگتا ہوں (میں نے دکھ کا جشن بنانا سیکھ لیا ہے)۔ اگر میری انگلی کا چھلا دینے سے بھی کسی کے ہاں سکھ کا کوئی دیا جل سکتا ہو، تو میں وہ بھی دینے کو تیار ہوں۔
For More
/ @bluediamond-k4n