طھارة درس خارج 2، ڈاکٹر سید عمار نقوی
Virtual UIS
0:00 / 0:00
طھارة درس خارج 2، ڈاکٹر سید عمار نقوی
5 просмотров · 5 месяцев назад
Virtual UIS
3 подписчика
5 просмотров · 5 месяцев назад
علم صرف اللہ کے لیئے عمل کرنے کے واسطے حاصل کریں اور پھیلائیں۔ نہ تکاثر کے لیئے، نہ تفاخر کے لیئے اور نہ ھی کسی اور غیر الہی مقصد کے لیئے۔
روایات جو راسخان کو تاویل کے عالموں میں ہی سمجھتی ہیں، مصداق کو بھی متعین کرتی ہیں اور آیت "راسخون فی العلم" کو صرف اہل بیت علیھم السلام پر تطبیق کرتی ہیں اور اس بات کی حکایت کرتی ہیں۔
روایات
*عن هشام بن الحكم قال:* قال لي أبو الحسن موسى بن جعفر عليه السلام: يا هشام! إن الله تبارك وتعالى *ذكر أولى الألباب بأحسن الذكر وحلاهم بأحسن الحلية* ... وقال: *﴿وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا﴾* (اور علم میں پختہ کار کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کے پاس سے ہے) *﴿وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾* (اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں)۔(۱)
*قال علي عليه السلام:* واعلم أن الراسخين في العلم هم الذين أغناهم من اقتحام السدد المضروبة دون الغيوب، الإقرار بجملة ما جهلوا تفسيره من الخبر المحجوب؛ فمدح الله تعالى اعترافهم بالعجز عن تناول ما لم يحيطوا به علماً، وتركهم التعمق فيما لم يكلفهم البحث عن كنهه رسوخاً، فاقتصروا على ذلك، ولا تقدر عظمة الله سبحانه على قدر عقلك فتكون من الهالكين!(۲)
(ترجمہ: اور جان لو کہ علم میں پختہ کار وہ ہیں جنہیں غیبوں کے آگے لگی ہوئی بند دیواروں میں گھسنے سے، اس تمام چیز کا اقرار کر لینے نے بے نیاز کر دیا جس کی تفسیر کو وہ پردہ دار خبر سے نہیں جانتے۔ پس خدائے تعالیٰ نے ان کے اس اعتراف کی تعریف فرمائی کہ وہ اس چیز کو حاصل کرنے سے عاجز ہیں جس کا علم انہوں نے احاطہ نہیں کیا، اور اس کی کنہ کی تحقیق کرنے میں جس کی انہیں تکلیف نہیں دی گئی، گہرائی میں جانے کو چھوڑ دیا اور یہی ان کا رسوخ ہے، پس اس پر اکتفا کیا۔ اور خدائے سبحان کی عظمت کو اپنے عقل کی مقدار پر نہ جانچنا ورنہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہو جاؤ گے!)
**حوالہ جات
١. الکافی، ج۱، ص۲۱۳۔
٢. الکافی، ج۱، ص۱۵؛ بحار الانوار، ج۱۱، ص۷۲؛ ج۲۳، ص۱۹۷