Перейти к содержимому

خطبہ جمعہ | فضیلۃ الشیخ ابو معاذ مفتی محمد شریف حفظہ اللہ

JAMIA ABI BAKR AL-ISLAMIYYAH (OFFICIAL)

0:00 / 0:00

خطبہ جمعہ | فضیلۃ الشیخ ابو معاذ مفتی محمد شریف حفظہ اللہ

81 просмотр · 13 дней назад
JAMIA ABI BAKR AL-ISLAMIYYAH (OFFICIAL)
2,39 тыс. подписчиков
81 просмотр · 13 дней назад
خطبہ جمعہ | فضیلۃ الشیخ ابو معاذ مفتی محمد شریف حفظہ اللہ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ 04 September 2026 موضوع : وراثت کے احکام اور مسائل. فضیلۃ الشیخ ابو معاذ مفتی محمد شریف حفظہ اللہ مفتی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ وراثت کے احکام اور مسائل اسلام میں وراثت (میراث) کی تقسیم کا حکم ایک فرض اور الہی قانون ہے، جس کی تفصیلات قرآنِ کریم (خصوصاً سورۃ النساء) میں واضح بیان کی گئی ہیں۔ وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہجب کوئی شخص انتقال کر جائے، تو اس کے مال (ترکہ) میں درج ذیل مراحل کے مطابق عمل کیا جاتا ہے: تجہیز و تکفین: سب سے پہلے میت کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جاتے ہیں۔ قرض کی ادائیگی: اگر میت کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو اسے ادا کیا جاتا ہے۔ وصیت کی تکمیل: اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو کل مال کے ایک تہائی (1/3) حصے تک اسے پورا کیا جاتا ہے۔ شرعی حصص کی تقسیم: باقی بچ جانے والا تمام مال قرآن و سنت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق تمام شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بنیادی حصص اور احکام بیٹے اور بیٹی کا حصہ: عام اصول کے مطابق ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہوتا ہے (لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ)۔ بیوہ کا حصہ: اولاد ہونے کی صورت میں بیوہ کو آٹھواں (1/8) حصہ ملتا ہے۔ والدین کا حصہ: میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں اور باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا (1/6) حصہ ملتا ہے اہم ہدایات اور وعید وراثت کو اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے خلاف تقسیم کرنا، کسی حقدار کو محروم کرنا یا زبردستی مال پر قبضہ کرنا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔