2- Farz Uloom | Allah ki Zat o Sifat | #questions #questionsandanswers
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
2- Farz Uloom | Allah ki Zat o Sifat | #questions #questionsandanswers
55 просмотров · 4 часа назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
55 просмотров · 4 часа назад
ذات و صفات کا بیان
سوال-1) قدیم کسے کہتے ہیں؟
جواب: قدیم وہ ہے جو ہمیشہ سے ہو اور جس کی کوئی شروعات نہ ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے، اسی طرح اس کی تمام صفتیں اور خوبیاں بھی ہمیشہ سے ہیں۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے علاوہ دنیا کی ہر چیز "حادث" ہے (یعنی پہلے نہیں تھی، بعد میں پیدا کی گئی ہے)۔ جو شخص کائنات کی کسی بھی چیز کو اللہ کی طرح ہمیشہ سے مانے، وہ مشرک ہے۔
سوال-2) باقی کا کیا مطلب ہے؟
جواب: باقی کا مطلب ہے وہ ذات جو ہمیشہ رہے گی اور جس کو کبھی زوال یا موت نہیں آئے گی۔ اسے "ابدی" بھی کہتے ہیں، اور یہ صفت صرف اور صرف اللہ پاک ہی کے لیے ہے۔
سوال-3) اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ اور کون سی چیزیں ہمیشہ سے ہیں؟
جواب: اللہ کی ذات کی طرح صرف اس کی صفتیں ہی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ ان دونوں کے علاوہ کائنات کی ہر چیز بعد میں پیدا کی گئی ہے۔ جو شخص روح یا مادہ (مٹی، ہوا وغیرہ) یا کسی بھی چیز کو اللہ کی طرح ہمیشہ سے مانے، اس کا عقیدہ درست نہیں۔
سوال-4) "اللہ" کے کیا معنی ہیں؟
جواب: "اللہ" اس ذات کا خاص ذاتی نام ہے جو خود سے موجود ہے، جس میں تمام کمالات اور خوبیاں موجود ہیں اور جو ہر قسم کے عیب، نقص اور کمزوری سے بالکل پاک ہے۔
سوال-5) صفاتِ کمالیہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔ ان تمام کامل اور بہترین خوبیوں کو جو اللہ کی ذات کے لیے ضروری ہیں، "صفاتِ کمالیہ" کہا جاتا ہے۔
سوال-6) صفاتِ کمالیہ کتنی ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں ہیں، لیکن ان میں سے اہم ۹ (نو) صفتیں ہیں اور باقی تمام صفتیں انہی کے تحت آتی ہیں:
(1) حیات (زندہ ہونا) (2) قدرت (طاقت) (3) ارادہ (مرضی) (4) علم (جاننا) (5) سمع (سننا) (6) بصر (دیکھنا) (7) کلام (بات کرنا) (8) تکوین (پیدا کرنا) (9) رزاقیت (رزق دینا) ۔
سوال-7) حیات کا کیا مطلب ہے؟
جواب: حیات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہمیشہ سے زندہ ہے اور تمام مخلوق کو زندگی دینے والا ہے، اور جب چاہتا ہے انہیں موت دیتا ہے۔
سوال-8) اللہ پاک کی قدرت (طاقت) کے بارے میں بتائیں؟
جواب: تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ ہی ہے۔ روزی، زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ وہ گناہ معاف کرنے اور توبہ قبول کرنے والا ہے، لیکن اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ عزت اور ذلت، امیری اور غریبی سب اسی کے اختیار میں ہے، اور اس کا ہر کام حکمت اور انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔
سوال-9) کیا اللہ پاک جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے؟
جواب: نہیں، اللہ تعالیٰ ہر اس بات سے پاک ہے جس میں کوئی عیب یا برائی ہو۔ جھوٹ، دھوکا، ظلم، جہالت اور خیانت جیسے تمام عیوب اللہ کے لیے ناممکن (محال) ہیں۔ جھوٹ ایک ایسا ناپاک عیب ہے جس سے عام انسان بھی شرماتے ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ اللہ جھوٹ بول سکتا ہے، اللہ کو عیب دار بتانے کے برابر ہے جو کہ غلط عقیدہ ہے۔
سوال-10) ارادہ اور مشیت کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اس کا مطلب ہے کہ اللہ اپنی مرضی اور ارادے سے کام کرتا ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کے ارادے سے ہوتا ہے۔ وہ کسی کام پر مجبور نہیں ہے، بلکہ مطلق مالک ہے؛ جو چاہے حکم دے اور جو چاہے کرے۔
سوال-11) صفتِ علم کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ جو کچھ ہو چکا ہے، جو ہو رہا ہے یا جو آئندہ ہوگا، اللہ ان تمام باتوں کو پوری تفصیل کے ساتھ ہمیشہ سے جانتا ہے اور ہمیشہ جانتا رہے گا۔ اس سے ایک باریک ذرّہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔
سوال-12) صفتِ سمع (سننا) اور بصر (دیکھنا) سے کیا مراد ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ ہر دھیمی سے دھیمی آواز کو سنتا ہے اور ہر باریک سے باریک چیز کو دیکھتا ہے، یہاں تک کہ جو چیزیں خوردبین سے بھی نہ نظر آئیں وہ بھی اس کی نظر میں ہیں۔
سوال-13) صفتِ کلام کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کلام فرمانے (بات کرنے) والا ہے۔ جیسے وہ بغیر کان کے سنتا ہے اور بغیر آنکھ کے دیکھتا ہے، ویسے ہی وہ بغیر زبان اور بغیر آواز کے کلام فرماتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہیں، جبکہ ہمارا انہیں پڑھنا، لکھنا اور سننا بندوں کا فعل (حادث) ہے۔
سوال-14) حیات، قدرت، سمع، بصر، علم، ارادہ اور کلام—ان سات صفتوں کو کیا کہتے ہیں؟
جواب: ان سات صفتوں کو اللہ تعالیٰ کی "صفاتِ ذاتیہ" کہا جاتا ہے۔
سوال-15) تکوین و تخلیق سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس کا مطلب پوری کائنات کو پیدا کرنا ہے۔ تمام دنیا اور اس کا مواد (آگ، پانی، ہوا، مٹی) اللہ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ وہ کسی چیز کو پیدا کرنے کے لیے کسی اوزار یا مددگار کا محتاج نہیں، بلکہ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرماتا ہے "کُن" (ہوجا) اور وہ ہو جاتی ہے۔ انسان اور ان کے تمام افعال بھی اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔
سوال-16) صفتِ رزاقیت کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ "رزاق" ہے، یعنی تمام جانداروں کو روزی دینے والا وہی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی مخلوق کو وہی پالتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ ترقی دیتا ہے۔ فرشتہ یا دیگر ذرائع صرف واسطہ ، ذریعہ اور وسیلہ ہیں، اصل رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔
سوال-17) صفاتِ سلبیہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ تمام برائیاں اور عیوب جن سے اللہ کی ذات پاک ہے، انہیں صفاتِ سلبیہ کہتے ہیں۔ مثلاً: اللہ جاہل نہیں، عاجز نہیں، اندھا یا بہرا نہیں، جسم یا شکل و صورت والا نہیں، کھانے پینے کا محتاج نہیں، اور نہ ہی اس کی کوئی بیوی، بیٹا، باپ یا کوئی برابر کا ہے۔
سوال-18) کیا اللہ تعالیٰ کا دیدار (دیکھنا) ممکن ہے؟
جواب: دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کا دیدار صرف ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے لیے خاص ہے۔ لیکن آخرت میں ہر سچے مسلمان کے لیے اللہ کا دیدار ممکن ہے اور ہوگا، جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہوگی۔ باقی رہی خواب میں زیارت، تو انبیاء اور اولیاء کو خواب میں دیدار حاصل ہوتا ہے۔