20- Sahi Lizatihi | صحیح لذاتہ | #UsooleHadees #darsequran #siratuljinan
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
20- Sahi Lizatihi | صحیح لذاتہ | #UsooleHadees #darsequran #siratuljinan
1 013 просмотров · 2 года назад
Allama Mansoor Maturidi
32,6 тыс. подписчиков
1 013 просмотров · 2 года назад
صحیح لذاتہ:
صحیح کا لغوی معنی :
وہ حدیث جس کی سند میں تین صفات موجود ہوں اور وہ دو خرابیوں سے محفوظ ہو۔
وہ تین صفات یہ ہیں:
1)اتصالِ سند: یعنی سند کی ابتداء سے انتہاء تک ہر راوی نے دوسرے راوی سے براہِ راست، بلا واسطہ اس حدیث کو حاصل کیا ہو، اور کسی جگہ سے بھی کوئی راوی ساقط نہ ہو۔ایسی سند کو متصل کہتے ہیں۔
2)عدالتِ رَواۃ: یعنی تمام راویوں کا عادل ہونا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سند کا ہر ایک راوی مسلمان، عاقل بالغ، متقی اور نیک ہواور اس کی زندگی ہر قسم کے عیب سے پاک ہو۔
3) ضَبطِ رَوَاۃ: یعنی تمام راویوں کا ضابط ہونا۔ یہاں ضابط، حافظ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ سند کا ہر ایک راوی کا حافظہ بہت مضبوط ہو ۔
اصول حدیث کی اصطلاح میں ان تین خوبیوں والے راوی کو ثِقہ راوی کہتے ہیں۔
اور وہ دو خرابیاں یہ ہیں:
4)شُذوذ: شذوذ جمع ہے شاذ کی۔ شاذ کا مطلب ہےکسی ثقہ راوی کا اپنے سے بڑے ثقہ راوی کی مخالفت کرنا۔ بڑے ثقہ راوی کو اَوْثَق کہتے ہیں، لہذا حدیث کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ راوی نے اپنے سے اوثق راوی کے خلاف روایت نہ کی ہو۔
5)علت: علت، صحت کی ضد ہے، اس سے مراد سند میں پائی جانے والی ایسی مخفی خرابی یا عیب ہے جوحدیث کی صحت پر اثر انداز ہو، ایسی سند کو مُعلَّل کہتے ہیں، لہذا حدیث کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی سند زرا بھی مُعلَّل نہ ہو، مثلاًحضرت سفیان ثوری کی ایک حدیث کی سند میں غلطی سے حضرت عبداللہ بن دینار کے نام کی جگہ حضرت عَمَرو بن دینار کا نام لکھ دیا گیا، یہ غلطی املاء لکھوانے والی کی بھی ہو سکتی ہے اور لکھنے والے کی بھی، لیکن بہرحال اس سے سند میں علت پیدا ہو گئی۔
صحیح لذاتہ کی مثال: عیدالاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا حکم: صحیح بخاری ، حدیث نمبر- 5546
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی ادا ہو گئی۔ اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو اپنایا۔
سند: یہ سند متصل ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، عادل و ضابط ہیں، شذوذ وعلت سے پاک ہیں۔
حکم: حدیث واجب العمل ہے۔
مسئلہ : حدیث کے مطابق عید کی نماز سے پہلے کی گئی قربانی ضائع ہو جاتی ہے۔
مسئلہ : ایسی قربانی کا گوشت کھانا حلال اور جائز ہے۔
صحیح لذاتہ کی مثال: ارکانِ نماز میں تعدیل کا حکم: سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر- 1060
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،
أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى۔ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ، فَسَلَّمَ ۔
فَقَالَﷺ وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ۔فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ ﷺوَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!
قَالَﷺ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ، ثُمَّ اِقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اِرْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ اِرْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اُسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اِرْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ اِفْعَلْ ذٰلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا۔
ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی“، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی“، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور «الله أكبر» کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو۔
سند: یہ سند متصل ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، عادل و ضابط ہیں، شذوذ وعلت سے پاک ہیں۔
حکم: حدیث واجب العمل ہے۔
مسئلہ : شوافع کے نزدیک اس حدیث کے مطابق نماز کے ہر رکن میں تعدیل کرنا فرض ہے۔جبکہ احناف کے نزدیک اس حدیث کے مطابق نماز کے ہر رکن میں تعدیل کرنا واجب ہے۔
اسانید : یہی حدیث صحیح بخاری شریف میں بھی چار الگ الگ سندوں سے موجود ہے اور تمام سندیں متصل ہیں، تمام راوی عادل و ضابط ہیں، شذوذ وعلت سے پاک ہیں۔
• 20- Sahi Lizatihi | صحیح لذاتہ | #UsooleHa...