Перейти к содержимому

😭 Madam Noor Jehan – The Song That Made Everyone Cry | Heart Touching Sad Song

Mahrang Jan

0:00 / 0:00

😭 Madam Noor Jehan – The Song That Made Everyone Cry | Heart Touching Sad Song

775 просмотров · 10 дней назад
Mahrang Jan
250 подписчиков
775 просмотров · 10 дней назад
💔 میڈم نور جہاں کے نام — درد بھری غزل ایک نئی، جذباتی اردو غزل، جدائی، غربت، تنہائی اور ٹوٹے دل کے نام۔ عنوان: اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا مکھڑا (بار بار دہرائیں) اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا آنکھوں میں آج بھی وہی برسات ہے جاری ہم نے غمِ فراق کو سہنا نہیں چھوڑا ہائے، تیری یاد آئی، دل پھر سے رو پڑا ہم نے تیرے خیال میں سونا نہیں چھوڑا انترا ۱ — ٹوٹے ہوئے خواب وہ چاندنی کی رات، وہ وعدے محبتوں کے وہ راستے پرانے، وہ قصے رفاقتوں کے اب تو ہر ایک منظر اداس لگتا ہے تیرا بغیر جینا بھی عذاب لگتا ہے تقدیر نے ہمارے مقدر میں غم لکھا ہونٹوں پہ مسکراہٹ، دلوں میں ستم لکھا ہم نے کسی کے سامنے آنسو نہیں بہائے تنہائیوں میں بیٹھ کے خود کو بہت رلائے اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا انترا ۲ — غربت کا درد غربت نے میرے خوابوں کا آنگن جلا دیا حالات نے خوشی کا ہر اک رنگ مٹا دیا ماں کی دعاؤں میں بھی عجب درد چھپا تھا باپ کے پسینے میں زمانے کا غم لکھا تھا بچوں کی آرزو تھی کہ دو وقت کھانا ہو ماں کے لبوں پہ ہنسی، گھر میں خزانہ ہو لیکن نصیب ہم سے خفا ہی رہا سدا ہر موڑ پر ملا ہمیں غم کا نیا صلہ دنیا نے دولتوں سے محبت کے دام رکھے ہم نے غریب ہو کے بھی دل میں سلام رکھے مکھڑا اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا انترا ۳ — ماں کی یاد ماں تیری گود جیسا کوئی سائباں نہیں تیرے بغیر اب تو کہیں بھی اماں نہیں تیرے ہاتھ کی روٹی کی خوشبو کہاں گئی وہ پیار کی گھنی چھاؤں جانے کہاں گئی راتوں کو جاگ جاگ کے جو مجھ کو دیکھتی تھی میرے ہر ایک دکھ پہ جو چپکے سے روتی تھی اب کون میرے سر پہ دعاؤں کا ہاتھ رکھے اب کون میرے درد کی دنیا کو ساتھ رکھے اے ماں تیری جدائی نے پتھر بنا دیا آنکھوں میں اشک، دل میں اندھیرا بسا دیا انترا ۴ — محبت میں بے وفائی جس کو سمجھ کے ہم نے زمانہ بھلا دیا اس نے ہی اپنی راہ میں تنہا بنا دیا جس کے لیے چراغ محبت جلائے تھے اس نے ہمارے خواب ہی ٹھکرا کے رکھ دیے ہم نے تو اس کے نام پہ دنیا لٹا دی تھی اس نے ہماری چاہت کو قصہ بنا دیا اب اس کے شہر سے بھی گزرتے نہیں ہیں ہم دل ٹوٹنے کے بعد کسی سے نہیں کہتے ہم کیا خوب اس نے پیار کا انعام دے دیا ہنستے ہوئے دل کو ہمیں غم دے دیا اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا انترا ۵ — تنہائی کی رات راتوں کی خامشی میں تیری آواز آتی ہے سوئی ہوئی امید کو پھر سے جگاتی ہے تکیے پہ میرے اشکوں کے دریا بکھر گئے جتنے بھی خواب تھے میرے، سب ٹوٹ کر گرے کھڑکی سے چاند دیکھ کے تجھ کو پکارتے ہم اپنی بے بسی پہ ساری رات ہارتے کاش ایک بار تو پلٹ کر صدا تو دے اس ٹوٹے ہوئے دل کو جینے کی دعا تو دے لیکن ہوا کے ساتھ تیری خوشبو چلی گئی میری خوشی بھی جیسے کہیں کھو کے رہ گئی انترا ۶ — دنیا کے غریب لوگ سارے جہاں کے لوگ ہیں دکھ میں گھرے ہوئے کچھ ہنس رہے ہیں، کچھ ہیں مقدر کے مارے ہوئے کسی کے گھر میں خوشیوں کے میلے سجے ہوئے کچھ لوگ بھوک سے ہیں راتوں کو جاگتے ہوئے کسی کی آنکھ میں دولت کا غرور ہے کسی کے دل میں روٹی کی خاطر فتور ہے اے کاش کوئی بھوک کا مطلب سمجھ سکے مجبور ماں کے درد کو آ کر بھی پڑھ سکے دولت سے بڑھ کے دل کی امیری عظیم ہے انسانیت ہی دنیا میں سب سے حسین ہے انترا ۷ — آخری التجا اے زندگی بتا مجھے کس موڑ پر کھڑی ہوں اپنے ہی خواب توڑ کے کس حال میں پڑی ہوں اب نہ کسی سے شکوہ، نہ کوئی گلہ رہا دل میں فقط خدا سے ملنے کا آسرا رہا جو لوگ چھوڑ کر گئے، ان کو دعا ہی دی ہم نے ہر ایک زخم کو خاموشی سے سی لیا دنیا اگر نہ سمجھی تو کیا غم ہے دوستو رب جانتا ہے دل کے سبھی درد اور آنسو اے میرے خدا، مرے دل کو قرار دے بجھتے ہوئے چراغ کو پھر سے بہار دے آخری مکھڑا — دھیمی اور رُلا دینے والی آواز میں اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا آنکھوں میں آج بھی وہی برسات ہے جاری ہم نے غمِ فراق کو سہنا نہیں چھوڑا دنیا نے ہمیں لاکھ زمانے کے غم دیے ہم نے مگر کسی کے لیے بددعا نہ دی ہونٹوں پہ خامشی ہے، نگاہوں میں نمی ہے دل آج بھی محبت کی دنیا میں کمی ہے اے دل کسی کی یاد میں رونا نہیں چھوڑا ہم نے تو تیرے بعد بھی جینا نہیں چھوڑا اختتام: یہ غزل میڈم نور جہاں کی کلاسیکی درد بھری گائیکی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک نئی تخلیق ہے؛ یہ ان کے اصل کلام یا ان کی آواز کی نقل نہیں ہے۔