Перейти к содержимому

کلام اقبال۔ بانگ درا Bang e Dara کا خلاصہ و تجزیہ

بانگ اردو Baang e Urdu

0:00 / 0:00

کلام اقبال۔ بانگ درا Bang e Dara کا خلاصہ و تجزیہ

808 просмотров · 4 года назад
بانگ اردو Baang e Urdu
367 подписчиков
808 просмотров · 4 года назад
بسم اللہ الرحمن الرحیم بانگ درا کا خلاصہ اور مختصر تجزیہ پیش خدمت ہے۔ ناظرین کرام! چینل بانگ اردو آپ کی خدمت میں مصروف ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ طویل کلام کو مختصر صورت میں بیان کردیا جائے۔ آج ہم آپ کے لیے لائے ہیں علامہ اقبال رحمہ اللہ کی شاعری کی پہلی تصنیف بانگ درا۔ اقبال کی ابتدائی شاعری جس پر داغ کا رنگ غالب ہے، کو اقبال نے اپنی تصانیف میں شامل نہیں کیا ہے۔ اقبال کی پہلی نظم ،،کوہ ہمالہ سے خطاب،، بہت مقبول ہوئی۔ بعد میں اس نظم کو صرف ہمالہ کے نام سے کتاب میں شامل کیا گیا اور یہی نظم بانگ درا کی پہلی نظم ہے۔ بانگ درا کو شیخ عبدالقادر نے تین حصوں میں یا تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔۔ پہلا حصہ ۱۹۰۱ سے ۱۹۰۵ تک ہے۔ دوسرا ۱۹۰۵ سے ۱۹۰۸ تک ہے جبکہ تیسرا دور ۱۹۰۸ سے بعد کا دور ہے۔ علامہ اقبال کے کلام میں آمد کا پہلو حاوی تھا اس لیے آپ فرمائش پر شعر کہنے کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی خصوصی طور پر کسی انجمن یا مجلس کے لیے اشعار لکھتے تھے البتہ یہ بات ضرور تھی کہ انھوں نے انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں اپنا کلام بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پیش کیا۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں آپ اپنے کلام کو ترنم سے پڑھتے تھے جسے لوگ نہایت انہماک اور دلی جوش و جذبے سے سنتے تھے۔ پہلے حصے میں اقبال نے انچاس نظمیں اور تیرا غزلیں شامل کی ہیں۔ ان نظموں میں چند مشہور کے نام یہ ہیں: ہمالہ، مرزاغالب، خفتگان خاک سے استفسار، شمع وپروانہ، عقل ودل، صدائے درد، شمع، ایک آرزو، درد عشق، سید کی لوح تربت، انسان اور بزم قدرت، عشق اور موت ، زہد اور رندی، شاعر، دل ، رخصت اے بزم جہاں، تصویر درد، نالہ فراق یعنی آرنلڈ کی یاد میں، بلال، ترانہ ہندی، جگنو، صبح کا ستارہ، ہندوستانی بچوں کا گیت، نیا شوالا، داغ یعنی داغ کا مرثیہ، کنار راوی، التجائے مسافربہ درگاہ حضرت محبوب الہی دہلی۔ دوسرا دور جو علامہ نے یورپ میں گزارا۔ اس دور میں آپ نے فارسی زبان میں بھی شاعری شروع کی۔ اردو کلام میں بھی فارسی تراکیب کثرت سے ملتی ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس میں آپ نے شاعری چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پروفیسر آرنلڈ کے مشورے اور رائے سے آپ نے دوبارہ شاعری کا آغاز کیا۔ اس دور میں علامہ کی ۲۴ نظمیں اور سات غزلیں ملتی ہیں۔ مشہور نظموں میں:محبت، حقیقت حسن، پیام ، سوامی رام تیرتھ، طلبہ علی گڑھ کے نام، اختر صبح، حسن و عشق، چاند اور تارے، وصال ، سلیمی، عاشق ہرجائی، کوشش ناتمام، عشرت امروز، انسان ، جلوہ حسن، ایک شام، تنہائی، پیام عشق، فراق، عبدالقادرکے نام اور صقلیہ۔ تیسرے دور کی شاعری میں علامہ اقبال زیادہ تر فارسی کلام کی طرف متوجہ نظر آتے ہیں۔ اردو کلام میں بھی آپ نے جابجا فارسی شعرا کے اشعار پر تضمین لکھی ہے۔ اردو کلام میں فارسی تراکیب اور فارسی بندشیں بہت زیادہ ہیں۔ اصل میں اقبال کے خیالات میں جو وسعت آچکی تھی ان کو بیان کرنے کے لیے اردو زبان کا سرمایہ کم تھا اس لیے آپ فارسی کی طرف زیادہ متوجہ رہے۔ تیسرے دور میں آپ نے ستر نظمیں ، آٹھ غزلیں اور آخرمیں کچھ ظریفانہ کلام رباعیات اور قطعات کی صورت میں پیش کیا ہے۔ مشہور نظموں میں چند درج ذیل ہیں: بلاد اسلامیہ، گورستان شاہی، نمود صبح، تضمین بر شعر انیسی شاملو،فلسفہ غم، پھول کا تحفہ عطا ہونے پر، ترانہ ملی، وطنیت، شکوہ، رات اور شاعر، بزم انجم، نصیحت، رام، خطاب بہ جوانان اسلام، شمع اور شاعر، مسلم، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ، جواب شکوہ، ساقی، تعلیم اور اس کے نتائج تضمین بر شعر ملا عرشی، شاعر، نوید صبح، دعا، فاطمہ بنت عبداللہ، شبنم اور ستارے، محاصرہ ادرنہ، غلام قادر رہیلہ، ایک مکالمہ ، میں اور تو، تضمین بر شعر ابوطالب کلیم، شبلی اور حالی ، ارتقا، صدیق، تہذیب حاضر تضمین بر شعر فیضی، والدہ مرحومہ کی یاد میں، عرفی، ایک خط کے جواب میں، نانک، کفر واسلام تضمین بر شعر میر رضی دانش، بلال، مسلمان اور تعلیم جدید تضمین بر شعر ملک قمی۔ تضمین بر شعر صائب، فردوس میں ایک مکالمہ، مذہب تضمین بر شعر مرزا بیدل، جنگ یرموک کا ایک واقعہ، مذہب، پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ، شب معراج۔ پھول ، شیکسپیئر ، میں اور تو، خضر راہ، جواب خضر، طلوع اسلام۔ امید ہے یہ ادنی کاوش آپ کو پسند آئی ہوگی۔ چینل کو سبسکرائب کرنے کی درخواست ہے۔ آپ کا خادم مہربان کوہاٹی۔