Khutba e Juma | 4 September 2026 | Syed Jawad Naqvi | 1st Khutba
Life Programming
0:00 / 0:00
Khutba e Juma | 4 September 2026 | Syed Jawad Naqvi | 1st Khutba
1 901 просмотр · 7 дней назад
Life Programming
2,35 тыс. подписчиков
1 901 просмотр · 7 дней назад
اس خطبۂ جمعہ میں سید جواد نقوی نے انسانی زندگی کی اجتماعی و سماجی حیثیت، امت سازی، نظامِ الٰہی، تسلسلِ ہدایت، بعثت، ہجرت اور قرآن کریم کی آیات کی حقیقی تلاوت کے مفہوم پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
خطبے میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانی حیات کا بنیادی شعبہ اجتماعی زندگی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو صرف افراد کی ہدایت کا نہیں بلکہ معاشرے کی تشکیل، امت سازی، نظام سازی، ہدایت اور حفاظت کا فریضہ بھی عطا فرمایا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کو امت سازی اور نظامِ الٰہی کی تعمیر کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے تسلسلِ ہدایت کی دعا کا ذکر کیا گیا ہے۔
نبوت، رسالت اور امامت کے فرق کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نبوت و رسالت کا مقصد دین کے نزول اور تکمیل سے متعلق تھا، جبکہ امامت کے مقاصد ہر نسل اور ہر دور میں جاری رہتے ہیں۔ اسی طرح عصرِ غیبت کا مطلب دین، ہدایت یا امت سازی کا توقف نہیں بلکہ ہدایت اور اجتماعی جدوجہد کا تسلسل ہے۔
خطبے کا ایک اہم موضوع *بعثت* ہے۔ بعثت کو بیداری، شعور اور حرکت کے مفہوم میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک سوئی ہوئی اور جمود کا شکار قوم کو بیدار کرنا، اس میں شعور پیدا کرنا اور اسے اپنے مقصد کی طرف حرکت دینا بعثت کے بنیادی مفاہیم میں شامل ہے۔ اس ترتیب کو یوں سمجھا جا سکتا ہے:
*بعثت → بیداری → شعور → حرکت → امت سازی → نظامِ الٰہی*
اگر کسی معاشرے میں بیداری اور حرکت پیدا نہ ہو تو ہجرت کا مرحلہ آتا ہے؛ یعنی ایسے ماحول سے نکلنا جہاں الٰہی نظام اور اجتماعی بیداری کے امکانات نہ ہوں اور ایسی جگہ کی تلاش کرنا جہاں حرکت اور بیداری ممکن ہو۔ اسی تناظر میں موجودہ مسلم معاشرے کے جمود، کمزور شعور اور امت کی اجتماعی حالت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ عاشورہ اور کربلا کو بھی سوئی ہوئی امت میں شعور اور بیداری پیدا کرنے کے ایک اہم مرحلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
خطبے کا مرکزی موضوع *تلاوتِ آیات کا حقیقی مفہوم* ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ تلاوت صرف قرآن کریم پڑھنے کا نام نہیں بلکہ *اتباع، پیروی اور آیات کو سامنے رکھ کر ان کے مطابق زندگی گزارنے* کا نام ہے۔ قرآن پڑھنا قراءت ہے، جبکہ قرآن کی آیات کو اپنے فیصلوں، اعمال اور زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنما بنا کر ان کی پیروی کرنا تلاوت کے حقیقی مفہوم سے متعلق ہے۔
اس مفہوم کو Google Maps، راستے کے نشانات اور آئین و قانون کی مثالوں سے سمجھایا گیا ہے۔ جیسے انسان نقشہ سامنے رکھ کر اس کے مطابق منزل کی طرف سفر کرتا ہے، اسی طرح قرآن کی آیات کو سامنے رکھ کر ان کے مطابق عمل کرنا حقیقی تلاوت ہے۔ صرف قرآن پڑھ کر بند کر دینا اور اس کی ہدایت کے مطابق عمل نہ کرنا تلاوت کے اس مفہوم کو پورا نہیں کرتا۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے تعلیمی و تربیتی طریقۂ کار میں *تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب و حکمت اور تزکیہ* کو بنیادی مراحل قرار دیا گیا ہے۔ تلاوتِ آیات کے ذریعے امت میں بیداری اور حرکت پیدا ہوتی ہے، پھر تعلیم و تزکیہ کے ذریعے ایک ہدایت یافتہ اور فعال امت تشکیل پاتی ہے۔
خطبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کو صرف ثواب کے لیے پڑھنا کافی نہیں؛ قرآن کو سمجھنا، اس میں تدبر کرنا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ کاروبار، تعلیم، تبلیغ، معاشرت، سیاست اور اجتماعی زندگی سمیت ہر شعبے میں قرآن کو رہنما اصول بنانا ہی قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق ہے۔
*مرکزی پیغام:*
قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں رہنمائی کا دستور ہے۔ حقیقی تلاوت یہ ہے کہ اللہ کی آیات کو سامنے رکھا جائے، ان کی پیروی کی جائے اور ان کے مطابق فرد اور معاشرے کی زندگی تشکیل دی جائے۔
*خطبۂ جمعہ | 4 ستمبر 2026 | سید جواد نقوی | پہلا خطبہ*
#KhutbaEJuma #SyedJawadNaqvi #JummaKhutba #Quran #QuranKiPairwi #TilaawatEAyaat #UmmatSazi #Baithat #Hijrat #Imamat