Перейти к содержимому

Ustaad Fida Ali Baltistani New Noha Chehlum 2026-1448 " Qaid khanay mai sakina ko sula kar ayi hai "

Balti Azadari Network

0:00 / 0:00

Ustaad Fida Ali Baltistani New Noha Chehlum 2026-1448 " Qaid khanay mai sakina ko sula kar ayi hai "

969 просмотров · 1 месяц назад
Balti Azadari Network
13 тыс. подписчиков
969 просмотров · 1 месяц назад
قید خانے میں سکینہ کو سلا کر آئی ہے بنت حیدر شام سے عابد بچا کر لائی ہے کلام۔علامہ شمس جعفری قید خانے میں سکینہؑ کو سُلا کر آئی ہے بنتِ حیدرؑ شام سے عابدؑ بچا کر لائی ہے تازیانوں کے نشاں خود پر سجا کر آئی ہے سر کھلے بازار میں آلِ نبی کو دیکھ کر جو تمنا موت کی کرتا رہا ہر گام پر اُس اسیرِ غمزدہ ، کو ساتھ لے کر آئی ہے قصرِ باطل کانپ اُٹھا موت کی للکار سے لے لیا حقِ امامت موت کے بازار سے جو کیا تھا بھائی سے ، وعدہ نبھا کر آئی ہے مار ڈالا اکبر و عباس اور شبیر کو لے گئے قیدی بنا کر زینب دلگیر کو درد کا عالم نگاہوں ، میں بسا کر آئی ہے تربت زہرا پہ رو رو کر یہ زینب نے کہا ماں تری طرح تری زینب کا گھر بھی لٹ گیا اپنے بچوں کو تری، زینب فدا کر آئی ہے قبرِ زہراؑ پر جو آئیں گی علی کی بیٹیاں تربتِ مادر پہ ہوگی ایسے زینب نوحہ خواں ماں تیری زینب بھرے ، گھر کو لٹا کر آئی ہے وہ ستم ڈھائے گئے سجاد پر کہ الاماں خون میں ڈوبے ہوئے تھے اُس کے پیروں کے نشاں ایسے زنجیرِ ستم ، بیمار کو پہنائی ہے شمس کہتی تھی یہ زنیب عابدِ دلگیر سے عمر بھر رو رو کے کرنی ہے وفا شبیر سے سر میں خاکِ کربلاِ ، ڈالے ہوئے گھر آئی ہے