36- دروس البلاغہ | حروفِ تمنی
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
36- دروس البلاغہ | حروفِ تمنی
145 просмотров · 4 дн. назад
Allama Mansoor Maturidi
32,9 тыс. подписчиков
145 просмотров · 4 дн. назад
وَأَمَّا التَّمَنِّي فَهُوَ طَلَبُ شَيْءٍ مَحْبُوبٍ لَا يُرْجٰى حُصُولُهُ لِكَوْنِهِ مُسْتَحِيْلًا، أَوْ بَعِيْدَ الْوُقُوعِ، كَقَوْلِهِ:
اور رہا تمنّی، تو وہ ایسی محبوب چیز کی طلب ہے جس کے حصول کی امید نہ ہو، اس کے ناممکن ہونے کی وجہ سے، یا اس کے بعید الوقوع ہونے کی وجہ سے ، جیسے شاعر کا قول:
أَلَا لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا - فَأُخْبِرُهُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ
اے سنو! کاش جوانی لوٹ آئے کسی دن - تو میں اسے بتلاؤں اس چیز کے بارے میں جو کیا بڑھاپے نے (میرے ساتھ)۔
وَقَوْلُ الْمُعْسِرِ: «لَيْتَ لِي أَلْفَ دِينَارٍ».
اور تنگ دست شخص کا یہ کہنا: ’’کاش میرے پاس ایک ہزار دینار ہوتے۔‘‘
تمنّی کے چار حروف:
وَلِلتَّمَنِّي أَرْبَعُ أَدَوَاتٍ: وَاحِدَةٌ أَصْلِيَّةٌ، وَهِيَ «لَيْتَ»،
تمنّا کرنے کے لیے چار ادوات ہیں: ایک اصلی ہے، اور وہ «لَيْتَ» ہے
وَثَلَاثَةٌ غَيْرُ أَصْلِيَّةٍ،
جبکہ تین غیر اصلی ہیں۔
وَهِيَ «هَلْ»، نَحْوُ: [ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا ] [الْأَعْرَافِ: ٥٣].
ان میں سے ایک «هَلْ» ہے،جیسے: ’’تو کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہوں گے کہ وہ ہماری سفارش کریں؟‘‘
وَ«لَوْ»، نَحْوُ: [ فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ] [الشُّعَرَاءِ: ١٠٢].
اور دوسرا «لَوْ» ہے،جیسے: ’’کاش ہمارے لیے ایک بار پھر واپس جانے کا موقع ہوتا، تو ہم ایمان والوں میں سے ہوتے۔‘‘
وَ«لَعَلَّ»، نَحْوُ قَوْلِهِ:أَسِرْبَ الْقَطَا! هَلْ مَنْ يُعِيرُ جَنَاحَهُ ؟- لَعَلِّي إِلٰى مَنْ قَدْ هَوَيْتُ أَطِيرُ
اور تیسرا «لَعَلَّ» ہے،جیسے شاعر کا یہ قول:
"اے قطا (پرندے) کے جھُنڈ! کیا کوئی ہے جو ادھار دے اپنے پر- کاش میں اس کی طرف، جس سے میں نے محبت کی ہے، اڑ کر جا سکوں۔"
وضاحت: شعر کے اس لفظ أَسِرْبَ میں ہمزہ بطورِ حرفِ نداء ہے اور لَعَلَّ تمنّا کے معنی میں ہے۔