چاروں امام برحق ہیں؟ ایک دریا چار نہریں. مولانا عبدالشکور فائق. توحید مسجد بی کے
Toheed Masjid BK
0:00 / 0:00
چاروں امام برحق ہیں؟ ایک دریا چار نہریں. مولانا عبدالشکور فائق. توحید مسجد بی کے
1 088 просмотров · 6 лет назад
Toheed Masjid BK
371 подписчик
1 088 просмотров · 6 лет назад
تقلید اور اقوال آئمہ اربعہؒ
تقلید جامد کے رد میں آج تک بہت کچھ لکھا جا چکا۔اور بادلائل صحیحہ ثابت بھی کیا گیا کہ یہ مذموم شئے ہے۔لیکن پھر بھی شیطان نے تقلیدی عوام پر اپنے شکنجے اتنے مضبوط کیے ہوئے ہیں کہ آنکھوں سےدیکھنے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ ہوتے ہوئے بھی تقلید کی رسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جن اماموں کو انہوں نے اپنا رہبرو رہنما مقرر کیا ہوا ان کے اپنے اقوال بھی ان کےمخالف ہیں۔اللہ تعالی حکمت والی ذات ہے اللہ کریم کو معلوم تھا کہ لوگ اماموں کی تقلید اور ان کی پیروی میں مگن ہوجائیں گے جس کی وجہ سے اللہ کریم نے ان اماموں کی زبانوں سے نکلوادیا کہ تم لوگ خود اپنی تقلید سے متبعین کو منع کردو۔آئیے
Click to expand...
اب ہم ان اقوال آئمہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے تمام اماموں پر کہ انہوں نے کتنی حق باتیں کہیں ہیں۔
اقوا ل امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ؒ
1۔امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں ۔:
(ا)۔
حرام علي من لم يعرف دليلي ان يفتي بكلامي (میزان للشعرانی ،عقدالجید70)
’’کہ میرے قول پر فتوی دینا حرام ہے جب تک میری بات کی دلیل معلوم نہ ہو۔‘‘
ب۔
اذا قلت قولا و كتاب الله يخالفه فاتركوا قولي بكتاب الله فقيل اذا كان خبرالرسول صلي الله عليه وسلم يخالفه قال اتركوا قولي بخبرالرسول صلي الله عليه وسلم فقيل اذا كان قول الصحابة يخالفه قال اتركوا قولي يقول الصحابة -(عقدالحید 53)
’’جب میرا قول قرآن کے خلاف ہوتو اسے چھوڑ دو۔لوگوں نے پوچھا جب آپ کا قول حدیث کے خلاف ہو ؟ فرمایا اس وقت بھی چھوڑ دو ۔پھر پوچھا جب صحابہ کے فرمان کے خلاف ہو تو ؟ کہا تب بھی چھوڑ دو
اقوال امام مالک بن انسؒ
2۔امام مالک ؒ فرماتے ہیں :
ا۔
مامن احدا لا وهو ماخوذ من كلامه و مردود عليه الارسول الله صلي الله عليه وسلم(عقدالجید70)
’’دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کی بعض باتیں درست اور بعض غلط نہ ہوں پھر اس کی درست باتیں لے لی جاتی ہیں اور غلط رد کردی جاتی ہیں سوائے محمدﷺ کے کہ تمام باتیں صحیح و درست اور مان ہی لینے کے لائق ہیں ۔ایک بات بھی ساری زندگی کی چھوڑنے کے قابل نہیں ۔‘‘
ب۔
انما انا بشراخطي واصيب فانظروا في راي فكل ماوافق الكتاب والسنة فخذوه وكل مالم يوافق فاتركوه-(جلب المنفعۃ74)
’’میں صرف ایک انسان ہوں کبھی میری بات درست ہوتی ہے اور کبھی غلط،تو تم میری اس بات کو جو قرآن وحدیث کے مطابق ہو لے لیا کرو اور اس بات کو جو اس کےخلاف ہو چھوڑ دیا کرو (یعنی میری جامد تقلید مت کرو)۔‘‘
اقوال امام محمد بن ادریش الشافعیؒ
3۔امام شافعی ؒ نے فرمایا:
ا-
قال الشافعي اذا قلت قولا وكان النبي صلي الله عليه وسلم قال خلاف قولي فما يصح من حديث النبي اولي ولا تقلدوني (عقدالجید 54)
’’جب میں کوئی مسئلہ کہوں اور رسول اللہ نےمیرے قول کے خلاف کہا ہو تو جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہی والی ہے پس میری تقلید مت کرو۔‘‘
ب۔
انه كان يقول اذا صح الحديث فهو مذهبي اذا رايتم كلامي بخلاف الحديث فاعلموا بالحديث واضربوابكلامي الحائط (عقدالجید70)
’’جب صحیح حدیث مل جائے (جانو کہ ) میرا مذہب وہی ہے اور جب میرے کلام کو حدیث کے مخالف دیکھو تو (خبردار) حدیث پر عمل کرو اور میرے کلام کو دیوار پر دے مارو۔‘‘
اقوال امام احمد بن حنبلؒ
4۔امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا:
ا۔
ولاتقلدني ولا تقلد مالكا ولاالشافعي ولا الاوزاعي ولا الثوري وخذو ا لاحكام من حيث اخذو ا من الكتاب والسنة(عقدالجید70)
’’ہر گز میری تقلیدنہ کرنا اور انہ امام مالک کی اور نہ امام شافعی کی اور نہ اما اوزاعی کی اور نہ امام ثوری کی ۔جہاں سے یہ تمام امام دین کےاحکام و مسائل لیتے تھے تم بھی وہیں (قرآن و حدیث) سے ہی لینا۔‘‘
ب۔
وكان الامام احمد يقول ليس لاحد مع الله ورسوله كلام (عقدالجید)
’’ کسی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کلام کی گنجائش نہیں ہے‘‘
ان چاروں محترم اماموں کے اقوال سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کےمطابق ماانا عليه واصحابي کا راستہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا یہ سب کے سب قرآن وحدیث پر عمل کرتے تھے یہی ان کا مذہب تھا ان چاروں بزرگوں نے اپنی تقلید سے منع کیا اور کسی نے بھی علیحدہ مذہب اپنے نام سے منسوب کرکےمرتب نہیں کیا
Click to expand...
نبی کریم ﷺ نےفرمایا سب سے بہتر اہل زمانہ میرے ہیں ،پھر وہ جوان کے بعد والے ہیں اپنے زمانہ کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا۔(بخاری)
علامہ ابن حجر ؒ فتح الباری پارہ 14 باب فضائل اصحاب النبی ﷺمیں تحریر فرماتے ہیں کہ
تبع تابعین دوسوبیس (220) برس تک زندہ رہے ان کےزمانے میں بھی کسی خاص شخص کی تقلید و خاص شخص کا مذہب کسی کا نہ تھا محترم آئمہ کرام ؒ کے شاگردوں نے بعض مسائل میں اختلاف کیا ہے اس لیے کہ وہ مقلد نہ تھے۔
علامہ سندبن عتانؒ تحریر فرماتے ہیں کہ
صحابہ کے زمانے میں کسی خاص شخص کے نام کامذہب نہ تھا جس کی تقلید کی جاتی ہو بہرحال قرون ثلاثہ میں تقلید کا وجود نہ تھا۔