Перейти к содержимому

"ساس کا پیار، سسر کا سہارا اور بہو کے آنسو"ایک ایسی بہو کی کہانی جسے اپنوں کی محبت نے ٹوٹنے سے

Sohail Memon

0:00 / 0:00

"ساس کا پیار، سسر کا سہارا اور بہو کے آنسو"ایک ایسی بہو کی کہانی جسے اپنوں کی محبت نے ٹوٹنے سے

715 просмотров · 2 дня назад
Sohail Memon
96 подписчиков
715 просмотров · 2 дня назад
💔 مختصر جذباتی اسکرپٹ عائشہ ایک نیک دل بہو تھی، جو اپنی ساس نسرین، سسر سلیم اور نند مریم کو اپنے ماں باپ اور بہن کی طرح سمجھتی تھی۔ حمزہ کی نوکری دوسرے شہر میں لگ گئی، اور وہ آہستہ آہستہ عائشہ سے دور ہوتا گیا۔ جب عائشہ کو معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو وہ بہت خوش ہوئی، مگر حمزہ کا ٹھنڈا رویہ دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا۔ رات کو وہ روتے ہوئے اپنی ساس سے کہتی ہے: عائشہ: "امی، میں نے تو ہمیشہ سب کو خوش رکھنے کی کوشش کی… پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟" نسرین اسے گلے لگا کر کہتی ہیں: نسرین: "بیٹی، تم اکیلی نہیں ہو، یہ گھر تمہارا ہے۔" سلیم صاحب اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہیں: سلیم: "حمزہ، بیوی خوشی میں نہیں، مشکل وقت میں پہچانی جاتی ہے۔ عائشہ نے تمہارا گھر سنبھالا ہے، اب تم اس کا ہاتھ سنبھالو۔" حمزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ عائشہ کے پاس جا کر کہتا ہے: حمزہ: "مجھے معاف کر دو عائشہ، میں تمہارا درد سمجھ نہیں سکا۔" عائشہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرا کر کہتی ہے: عائشہ: "مجھے دولت نہیں چاہیے تھی… مجھے صرف آپ کا ساتھ چاہیے تھا۔" حمزہ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے، اور پورا خاندان دوبارہ محبت سے ایک ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ اختتام: "کبھی کبھی ایک گھر کو جوڑنے کے لیے دولت نہیں، صرف محبت، سمجھ اور اپنوں کا سہارا کافی ہوتا ہے۔"