Chehlum Shigar 2026 | Qabr e Abbas Per Giray Abid Aur Qbr Hussain Per Zainab|Dasta Hussainia Shigar|
The Ahlebait Zone
0:00 / 0:00
Chehlum Shigar 2026 | Qabr e Abbas Per Giray Abid Aur Qbr Hussain Per Zainab|Dasta Hussainia Shigar|
135 просмотров · 1 месяц назад
The Ahlebait Zone
4,32 тыс. подписчиков
135 просмотров · 1 месяц назад
#QbrAbbasPerGirayAbid
#QbreHussainPerZainab
#DastaHussainiaMarkunjaShigar
#chehlum2026
#arbaeen
#newnoha
#fidaalibaltistani
#HasnainShigiri
#ArifSahaab
#azadari
#ChehlumShigar
#chehlumimamhussain
Lyric
کلام: عارف سحاب بندش: استاد حسنین شکری
شام کی قید سے ربا ہو کر، آگئے زخمی ہاتھ پھیلا کر
قبر عباس ع پہ گرے عابد ع، اور قبر حسین ع پر زینب س
ثانی... آج داغِ رسن دکھائیں گے، شام والے غریب رو کر
بند 1
شام سے وہ ترس کے آئے ہیں، کون جا کر کسے سنبھالے گا
غش میں گرتی ہیں زینبِ کبری س، اور سجاد ع بے لہو روتا
آج رو کے وہ بتائیں گے، کتنے داغِ سن ہیں ہاتھوں پر
بند 2
راستے میں حسین ع کے قاتل، کیسے زینب س کا نام لیتے تھے
اس طرح سے وہ شام کے ظالم، بدر کا انتقام لیتے تھے
کر کے فریاد بتانے کو، بائے کیسا تھا شام کا منظر
بند 3
چلتے ناقے سے جس طرح نیچے، گر گئی تھی حسین ع کی بیٹی
ایسے محمل سے گری زینب س، قبر جس دم حسین ع کی دیکھی
دی صدا اجرڑے لوگ آئے ہیں، زخم چادر کا شام سے لے کر
بند 4
ایک تربت پہ بھائی کو زینب س، اپنی چادر دکھا کے روتی ہے
دوسری قبر پہ یہ عابد ع نے، دی خبر کہ سکینہ س گزری ہے
رونے والوں کا قافلہ پہنچا، آج زندانِ شام سے چھٹ کر
بند 5
اس قدر روئے دونوں قبروں پر، ان کو فضا سنبھال نہ پائی
وہ ضعیفہ بھی خاک پر گر کے، تب یہی کہہ کے بین کرتی تھی
اب تو آجائے علی ع مولا، کربلا میں بپا ہے پھر محشر
بند 6
روزِ عاشور سے یہ چہلم تک، یادِ غم اور ستم میں گزرے ہیں
بھیڑ میں سر پہ کھائے ہیں پتھر، اور دربار میں بھی روئے ہیں
چھوڑ آئے ہیں وہ سکینہ س