Heart Breaking 💔 songs + lofi Mashup songs Slowed Reverb songs
Sufi Vibe
0:00 / 0:00
Heart Breaking 💔 songs + lofi Mashup songs Slowed Reverb songs
73 просмотра · 1 день назад
Sufi Vibe
15 подписчиков
73 просмотра · 1 день назад
میں اپنی راہ بناؤں گا
چل پڑا ہوں میں اکیلا، راستے انجان ہیں، جیب میں کچھ خواب چھوٹے، آنکھ میں ارمان ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ منزل اب بہت ہی دور ہے، میں نے دل سے یہ کہا ہے، حوصلہ بھرپور ہے۔
دھوپ چاہے تیز ہو جائے، پاؤں چاہے تھک بھی جائیں، آندھیاں کتنی بھی آئیں، ہم نہیں پیچھے ہٹیں گے، آج دنیا ہنس رہی ہے، کل یہی آواز ہوگی، میری محنت کی کہانی ہر زباں پر خاص ہوگی۔
میں اپنی راہ بناؤں گا، میں اپنا نام لاؤں گا، گروں گا سو دفعہ لیکن، پھر اٹھ کر مسکراؤں گا۔ نہیں ڈرتا اندھیروں سے، میرے دل میں اجالا ہے، میری قسمت کا ستارہ میرے ہاتھوں میں پالا ہے۔
کبھی خالی تھے یہ ہاتھ، کبھی آنکھوں میں نمی تھی، میرے حصے میں اکیلی رات اور تھوڑی کمی تھی، پھر بھی میں نے اپنے خوابوں کو کبھی مرنے نہیں دیا، ٹوٹ کر بکھرا کئی بار، پر جھکنے نہیں دیا۔
میری ماں کی وہ دعائیں آج بھی میرے ساتھ ہیں، میرے بابا کی نصیحت میرے دل کی بات ہیں، ان کی آنکھوں میں جو سپنا میں نے دیکھا ہے کبھی، اس سپنے کو سجانے میں لگا ہوں میں ابھی۔
لوگ پوچھیں، کیا ملے گا اس طرح جدوجہد کرکے؟ میں نے ہنس کر کہہ دیا، کیا ملا ہے ڈر کے جی کر؟ زندگی اک بار ملتی، اسے یوں کھونے نہ دو، اپنے اندر کے مسافر کو کبھی سونے نہ دو۔
میں اپنی راہ بناؤں گا، میں اپنا نام لاؤں گا، گروں گا سو دفعہ لیکن، پھر اٹھ کر مسکراؤں گا۔ نہیں ڈرتا اندھیروں سے، میرے دل میں اجالا ہے، میری قسمت کا ستارہ میرے ہاتھوں میں پالا ہے۔
شہر کی ان بھیڑ میں بھی ایک سپنا پل رہا ہے، چھوٹے سے کمرے میں کوئی نیا سورج ڈھل رہا ہے، میری میز پر کتابیں، میری آنکھوں میں سویرا، میرے اندر کہہ رہا ہے، آئے گا دن بھی میرا۔
نہ کسی سے بیر رکھنا، نہ کسی سے آس رکھنا، اپنی محنت پر بھروسا، اپنے دل میں پیاس رکھنا، جو بھی حاصل ہو سفر میں، اس کو اپنی جیت سمجھو، اور جو چھوٹے تمہارے ہاتھ سے، اس کو اک سیکھ سمجھو۔
میں نے سیکھا ہے وقت سے، صبر سب سے بڑی دولت، سچے دل سے کام کرنا، یہی سب سے بڑی شہرت، نام اونچا ہو تو کیا ہو، دل میں انسانیت نہ ہو، لاکھ دنیا ساتھ دے دے، دل میں اپنی سچائی نہ ہو۔
مجھے اونچی عمارت سے زیادہ اونچے خیال چاہئیں، مجھے جھوٹی واہ واہی سے نہیں، سچا پیار چاہیے، میرے لفظوں میں ہو سچائی، میری باتوں میں اثر، میرے جانے کے بعد بھی یاد رکھے مجھ کو یہ شہر۔
کبھی بارش کی بوندوں میں نئی امید ملتی ہے، کبھی مٹی کی خوشبو میں کوئی تصویر کھلتی ہے، کبھی چڑیوں کی آوازیں کہتی ہیں اٹھ جا مسافر، تیرے حصے میں بھی آئے گا نیا اک دن سنہرا۔
نہ میں راجا بننے نکلا، نہ کوئی تاج چاہیے، بس میرے اپنے ہنر کو ایک کھلا آسمان چاہیے، میری محنت کی کمائی سے کسی کے گھر میں روشنی ہو، میری چھوٹی سی خوشی میں کسی کے چہرے پر ہنسی ہو۔
اگر منزل پر پہنچ کر اپنے لوگوں کو بھلا دوں، اگر دولت کے نشے میں اپنے ہر رشتے کو مٹا دوں، تو سمجھ لینا سفر میں میں کہیں بھٹک گیا ہوں، جس جگہ سے چل پڑا تھا، اس جگہ سے کٹ گیا ہوں۔
میں اپنی راہ بناؤں گا، میں اپنا نام لاؤں گا، گروں گا سو دفعہ لیکن، پھر اٹھ کر مسکراؤں گا۔ میرے خوابوں کی اڑانیں آسمانوں کو چھوئیں گی، میری کوشش کی کہانی آنے والی نسلیں سنیں گی۔
اب نہ شکوہ ہے کسی سے، نہ شکایت رات سے، میں نے دوستی کر لی ہے اپنی ہر اک مات سے، ہار نے مجھ کو سکھایا جیت کی قیمت کیا ہے، درد نے مجھ کو بتایا مسکرانے میں مزہ ہے۔
کل اگر میں جیت جاؤں، تو زمیں پر ہی رہوں گا، اپنے بیتے ہوئے کل کو یاد کرکے ہی چلوں گا، جو کبھی میرے لیے اپنے دروازے بند کرتے تھے، ان کے حصے میں بھی خوشیاں ہوں، یہی دعا کروں گا۔
کیونکہ نفرت سے کسی کا راستہ آسان نہیں ہوتا، کسی کو گرانے سے اپنا آسمان نہیں ہوتا، جو دیا جلتا ہے، وہ اوروں کو بھی روشن کرے، جو دل سچا ہو، وہ ہر مشکل میں حوصلہ بھرے۔
چل مسافر، اب تیرے قدموں کو رکنا نہیں ہے، آسمان چھوٹا نہیں، بس تجھے جھکنا نہیں ہے، تیرے خوابوں کی کہانی ابھی ادھوری سہی، تیری محنت کی نشانی ابھی پوری نہیں۔
آج سے ہر صبح کو ایک نیا پیغام دینا، اپنی کوشش کو ہمیشہ ایک نیا انجام دینا، راستے مشکل سہی، لیکن ارادہ کم نہ ہو، تیرے چہرے کی ہنسی کسی موسم سے کم نہ ہو۔
میں اپنی راہ بناؤں گا، میں اپنا نام لاؤں گا، گروں گا سو دفعہ لیکن، پھر اٹھ کر مسکراؤں گا۔ میری منزل میری محنت، میرا یقین ساتھی ہے، میرے دل میں ایک دنیا، میری آنکھوں میں آزادی ہے۔
ایک دن یہ رات ڈھل کر روشنی میں بدل جائے گی، میری خاموش محنت ایک کہانی بن جائے گی، تب میں سر اٹھا کر اپنے رب کا شکر کروں گا، جس نے مجھ کو حوصلہ دیا، اس کا ذکر کروں گا۔
میں اپنی راہ بناؤں گا، یہ میرا آزمانا ہے، ابھی تو بس شروعات ہے، ابھی پورا زمانہ ہے، چاہے کتنی دور ہو منزل، میں چلتا ہی جاؤں گا، اپنے خوابوں کی دنیا میں خود بناتا جاؤں گا۔