Qasida Burda Sharif | Alexandria Egypt | اسکندریہ مصر | قصیدہ بردہ | امام بوصیری رحمۃ اللہ کا مزار
Travel with Sadam и Muhammad Ali Qadri
0:00 / 0:00
Qasida Burda Sharif | Alexandria Egypt | اسکندریہ مصر | قصیدہ بردہ | امام بوصیری رحمۃ اللہ کا مزار
433 просмотра · 4 года назад
Travel with Sadam и Muhammad Ali Qadri
433 просмотра · 4 года назад
#alexandria #egypt #qasida #ancientegypt #islamic #islamicstories #islamicvideo #islamicstatus #travel #traveling #travelvlog #vlog #vlogger #qaseeda #qasidah #qasidaburdasharif #kasida #burdah #qasidah
صاحبِ قصیدہ بردہ شیخ شرف الدین بوصیری ؒ
مصر کے شہر اسکندریہ میں ہمیں جن بزرگوں کی قبور کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی ان میں سے ایک امام شیخ شرف الدین بوصیری (1211ء۔1294ء) نور اللہ مرقدہ ہیں۔
۔ آپ کا پورا نام شرف الدین ابو عبد اللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبد اللہ الصنہاجی ہے ۔ نسلاً بربر تھے۔
آپ 608 ھ بمطابق 1212ء کو مصر کے گاؤں بوصیر میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے بوصیری کہلائے۔
آپ کا لکھا ہوا مشہور نعتیہ قصیدہ، قصیدہ بردہ عرب وعجم میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا قصیدہ ہے۔
اس قصیدے کی مقبولیت کا اندازہ کچھ اس بات سے بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ہوچکاہے اور اس پر لکھی گئی شرحوں کی تعداد نوے سے متجاوز ہے۔
آپؒ نے اپنے کلام میں جن اصطلاحات اور تلمیحات کا استعمال کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علم حدیث، سیر، مغازی، کلام، ادب، بیان و بدیع اور صرف و نحو میں کامل تھے۔
علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ ابن العماد حنبلی، ابن شاکر کتبی، ابن سید الناس جیسی صاحبِ علم شخصیات نے بڑی فراخدلی سے آپ ؒ کے کمالاتِ علمی کا اعتراف کیا ہے۔
مستشرقین میں سے پروفیسر آر۔ اے۔ نکلسن اور اے۔ جے۔ آربری بھی آپ ؒ کے علمی مقام و مرتبے کے قائل ہیں۔
امام بوصیریؒ 694ھ بمطابق 1295ء کو مصر کے شہر اسکندریہ میں ہوا۔
آپ ؒ کا مزار سمندر (بحر روم) کے بالکل سامنے ہے۔
قصیدہ بردہ کی تخلیق کا واقعہ بہت ایمان افروز ہے۔ جب امام بوصیری ؒ پر فالج کا دورہ پڑا اور جسم کا نصف حصہ مفلوج ہو گیا تو اپنی زندگی کا حاصل ’’قصیدہ الکوکب الدریہ فی مدح خیرالبریہ‘‘ لکھا۔
جب یہ قصیدہ مکمل ہوگیا تو رات کو امام بوصیری ؒ عالمِ خواب میں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے اور یہ قصیدہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خوش ہوکر امام بوصیریؒ کو اپنی چادر مبارک (بردہ) عطا فرمائی۔
صبح امام بوصیری ؒ بیدار ہوئے تو شفایاب ہوچکے تھے اور چادرِ مبارک سرھانے موجود تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عطاکردہ چادر مبارک کی وجہ سےاس قصیدے کو قصیدہ بردہ کہا جاتا ہے۔ 162 شعروں پر مشتمل اس قصیدے کو آج بھی ردآفات کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
فان فضل رسول اللہ لیس لہ
حد فیعرب عنہ ناطق بفم
(پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بزرگی کی کوئی حد نہیں ہے جس کو بولنے والا بیان کرسکے)
فمبلغ العلم فیہ انہ بشر
و انہ خیر خلق اللہ کلھم
(پس ہمارے علم کا منتہیٰ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کی نسبت صرف یہی کہنا کافی ہے کہ آپ انسان ہیں اوربے شک آپ تمام مخلوقات سے افضل ہیں)
حاشا ان یحرم الراجی مکارمہ
او یرجع الجار منہ غیر محترم
(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے یہ بعید ہے کہ آپ کے لطف و کرم کا امیدوار بخششوں سے محروم رہے یا پناہ لینے والا یوں ہی بے توقیر لوٹ جائے )
مولا یا صلِ وسلم دائماً ابداً
علی حبیبک خیر الخلق کلھم
(اے میرے مالک ہمیشہ درود اور سلام بھیج اپنے حبیب ﷺ پر جو ساری خلقت میں بہترین ہیں)
صلی اللہ علیہ وسلم ۔