18- دروس البلاغہ | خبر اور اس کی تقسیم | جملہ فعلیہ | جملہ اسمیہ
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
18- دروس البلاغہ | خبر اور اس کی تقسیم | جملہ فعلیہ | جملہ اسمیہ
56 просмотров · 22 ч назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
56 просмотров · 22 ч назад
خبر اور اس کی تقسیم
اَلْخَبَرُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ جُمْلَةً فِعْلِيَّةً أَوِ اسْمِيَّةً؛
خبر یا تو جملۂ فعلیہ ہوتا ہے یا جملۂ اسمیہ۔
جملہ فعلیہ :
فَالْأُولَى مَوْضُوعَةٌ لِإِفَادَةِ الْحُدُوثِ فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ مَعَ الِاخْتِصَارِ،
پس جملۂ فعلیہ کسی خاص زمانے میں کسی کام کے واقع ہونے کا مفہوم اختصار کے ساتھ ادا کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
وَقَدْ تُفِيدُ الِاسْتِمْرَارَ التَّجَدُّدِيَّ بِالْقَرَائِنِ إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُضَارِعًا،
اور اگر وہ فعل مضارع ہو تو قرائن کی مدد سے یہ استمرارِ تجددی کا فائدہ بھی دیتا ہے۔
كَقَوْلِ طَرِيفٍ:جیسے طریف کا یہ قول ہے:
أَوَ كُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظَ قَبِيلَةٌ
کیا جب بھی کوئی قبیلہ عکاظ میں آتا تھا،
بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ يَتَوَسَّمُ
تو وہ اپنے سردار کو میری طرف بھیج دیتے تھے کہ وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کرے
تشریح:
استمرارِ تجددی کا مطلب ہے کسی کام کا بار بار، نئے سرے سے، مسلسل ہوتے رہنا۔
یہاں فعل مضارع يَتَوَسَّمُ لانے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ قبیلے کا سردار/عریف ایک بار آ کر تفتیش کر کے چلا نہیں جاتا، بلکہ جب بھی نیا قبیلہ آتا ہے، یہ فراست اور پہچان کا عمل بار بار، نئے سرے سے تجدید کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے
جملہ اسمیہ:
وَالثَّانِيَةُ مَوْضُوعَةٌ لِمُجَرَّدِ ثُبُوتِ الْمُسْنَدِ لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، نَحْوُ: «اَلشَّمْسُ مُضِيئَةٌ».
اور دوسرا (یعنی جملۂ اسمیہ) تو صرف مسند کو مسند الیہ کے لیے ثابت کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، جیسے: ’’سورج روشن ہے۔‘‘
اس مثال میں مسند: روشن ہونا ہے، اور اسے سورج کے لئے ثابت کیا گیا ہے
وَقَدْ تُفِيدُ الِاسْتِمْرَارَ بِالْقَرَائِنِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي خَبَرِهَا فِعْلٌ، نَحْوُ: «الْعِلْمُ نَافِعٌ».
اور کبھی جملہ اسمیہ، قرائن کی مدد سے استمرار کا فائد بھی دیتا ہے، جبکہ اس کی خبر میں کوئی فعل نہ ہو-جیسے: ’’علم نفع بخش ہے۔‘‘
فائدۃ الخبر:
وَالْأَصْلُ فِي الْخَبَرِ أَنْ يُلْقٰى لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ، كَمَا فِي قَوْلِنَا: «حَضَرَ الْأَمِيرُ».
اور خبر میں اصل یہ ہے کہ اسے مخاطب کو وہ حکم بتانے کے لیے بیان کیا جائے جو جملے میں موجود ہے، جیسے ہمارا کہنا: ’’امیر حاضر ہوگیا۔‘‘
اس میں مخاطب کو ایک نئی بات معلوم ہوئی کہ امیر حاضر ہوگیا۔ اسی کو فائدۃ الخبر کہتے ہیں۔
لازم ِفائدۃ الخبر:
أَوْ لِإِفَادَةِ أَنَّ الْمُتَكَلِّمَ عَالِمٌ بِهِ، نَحْوُ: «أَنْتَ حَضَرْتَ أَمْسِ».
یا یہ بتانے کے لئے کہ متکلم اس حکم (بات) سے واقف ہے، جیسے: ’’تم کل آئے تھے۔‘‘
وَيُسَمَّى الْحُكْمُ «فَائِدَةَ الْخَبَرِ»، وَكَوْنُ الْمُتَكَلِّمِ عَالِمًا بِهِ «لَازِمَ الْفَائِدَةِ».
اور ایسے حکم کو فَائِدَةُ الْخَبَرِ کہا جاتا ہے، جبکہ متکلم کا اس حکم سے واقف ہونا ’’لازمُ فائدۃِ الخبرِ‘‘ کہلاتا ہے۔