حضرت مولانا قاری نعیم اللہ خان صاحب ملتانی
Gulshan E Multani
0:00 / 0:00
حضرت مولانا قاری نعیم اللہ خان صاحب ملتانی
140 просмотров · 5 дней назад
Gulshan E Multani
41 подписчик
140 просмотров · 5 дней назад
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا﴾
ترجمہ: مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔
(سورۃ الکہف: 46)
یعنی مال اور اولاد دنیا کی زینت ضرور ہیں، لیکن آخرت میں انسان کے کام اس کے نیک اعمال آئیں گے۔
مال اور اولاد کی محبت سے بچنے کی تنبیہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔
(سورۃ المنافقون: 9)
میرے بھائیو! ذرا غور کریں، اگر مال کی خاطر نماز چھوٹ جائے، اولاد کی خاطر حرام کا ساتھ دینا پڑے، کاروبار کی خاطر جھوٹ بولنا پڑے، تو یہ محبت انسان کو اللہ سے دور کر رہی «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ»
ترجمہ: دینار اور درہم کا بندہ ہلاک ہو۔
(صحیح البخاری: 2887)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال کا ایسا غلام بن جائے کہ مال ہی اس کا مقصدِ زندگی ہو اور اللہ کی اطاعت بھول جائے، وہ سخت خسارے میں ہے۔
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز واقعہ
محترم سامعین! اب آئیے ایک عظیم صحابی، حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کی قربانی کا واقعہ سنتے ہیں۔
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور مکہ مکرمہ میں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو قریش کے بعض لوگوں نے آپ کا راستہ روک لیا۔ انہوں نے کہا کہ تم ہمارے پاس آئے تھے تو تمہارے پاس مال نہیں تھا، پھر تم نے یہاں مال کمایا؛ اب تم اپنا مال لے کر نہیں جا سکتے۔
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کو مال پر ترجیح دی اور اپنا مال چھوڑ کر ہجرت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے دنیاوی مال کے مقابلے میں اپنے ایمان کو ترجیح دی اور مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
۔