Jalil Aali | Classical Ghazal | Ghari Nahin Ayee | گھڑی نہیں آئی | کلاسیکل اردو غزل | جلیل عالی
Kalame Sohail
0:00 / 0:00
Jalil Aali | Classical Ghazal | Ghari Nahin Ayee | گھڑی نہیں آئی | کلاسیکل اردو غزل | جلیل عالی
260 просмотров · 12 дн. назад
Kalame Sohail
165 подписчиков
260 просмотров · 12 дн. назад
"خواتین و حضرات! کلامِ سہیل چینل کے مقبول سلسلے 'مہمان شعرا' میں آج ہمارے معزز مہمان ہیں، معروف شاعر اور دانشور جنابِ جلیل عالی۔ آج ہم ان کی کتاب 'عرضِ ہنر سے آگے' سے ان کی یہ خوبصورت غزل آپ کی نذر کر رہے ہیں:
'نہیں کہ کوئی خوشی کی گھڑی نہیں آئی'۔"
عالی صاحب دنیائے اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس غزل کے انتخاب کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ کہ بظاہر سادہ سی یہ غزل ان کی دو توانا شعری جہات کو بیک وقت اجاگر کر رہی ہے یعنی ایک تو روائیتی رنگِ تغزل اور دوسری جہت عالی صاحب کی زبان درازی۔ زبان درازی کو میری گستاخی نہ سمجھا جائے اس اصطلاح کو متعارف کروانے کے مجرم غالباً ریحان صاحب ہیں لیکن جس باریک شعری واردات کو جامع انداز میں یہ اصطلاح بیان کر سکتی ہے شاید بصورتِ دیگر اُس کی وضاحت کرنے میں دیوان بھی کم پڑ جائیں۔ اس غزل کی دوسری خاص بات عالی صاحب کا اعلانِ بغاوت ہے جو اس غزل میں بڑی معصومیت سے یوں کر دیا گیا ہے کہ عام قاری اسے ایک معمولی شعری حرکت سمجھ کے گزر جائے جبکہ یہ ایک طوفان کا پیش خیمہ ہے، اُس طوفان کا جو عالی نے آگے چل کے ادبی دنیا میں بپا کرنا ہے۔
تو ذرا اعلان ملاحظہ فرمائیۓ
ہمیں جہاں سے جدا راستے بنانے ہیں
کوئی بھی راہ ازل سے چلی نہیں آئی
اور زباں درازی کا یہ معصوم سا نقش دیکھیئے جس می اعلانِ بغاوت کو بھی چپکے سے اگلے درجے پہ پہنچا دیا ہے
زمانہ سحر بہت مصلحت کے پھونک رہا
ہواؤں ساتھ ہمیں ہم رہی نہیں آئی
لیکن آگے چلیئے اور یہ بلا کا رنگِ تغزل بھی دیکھیئے اور سر دھنیئے۔ یہ اس نسل کے اشعار ہیں جنہیں انسان گھنٹوں سنتا سوچتا اور محسوس کرتا چلا جائے اور سفر ختم ہونے کو ہی نہ آئے۔
سزا ملی ہے یہ عجلت کے فیصلوں کی ہمیں
چراغ بھی نہ رہے، صبح بھی نہیں آئی
عجیب سلسلہ خوف و خواب ہے عالی
کسی کے ہاتھ ذرا سی کڑی نہیں آئی
اور ذرا مطلع میں بھری ہوئی احساسِ زیاں کی بے کلی میں تو ڈوب کے دیکھیں
نہیں کہ کوئی خوشی کی گھڑی نہیں آئی
تمہارے بعد لبوں پر ہنسی نہیں آئی
سو دوستو بظاہر معصوم سی نظر آنے والی یہ غزل اپنے اندر کیا کیا چھپائے ہوئے ہے، دیکھیئے اور سوچیئے۔ بڑا شعر اور زندہ شعر وہ نہیں ہوتا جس میں بھاری بھرکم الفاظ ہوں پیچیدہ بندشیں ہوں، علمیت کی بھرمار ہو۔ اکثر بڑے اور زندہ شعر بظاہر بالکل سادہ اور عام سے ہی ہوتے ہیں اور یہی معراجِ فن کی علامات میں سے ایک ہے۔
یہاں میرے اپنے شعری سفر میں عالی صاحب کی شعری فکر کا جو کردار ہے اس کا تذکرہ بے محل نہ ہو گا۔ میری ابتدائی شعری پرداخت جذباتی شدت اور روایت سے بغاوت کے رجحان میں ہوئی۔ پھر ایک دور آیا جب سرور عالم راز صاحب سے ایک طویل شعری رفاقت رہی۔ بزمِ اردو انجمن میں لگ بھگ چار پانچ سال ان کے ساتھ ابوابِ غزل و اصلاح میں نظامت کے فرائض سرانجام دئیے۔ جو لوگ نہیں جانتے ان کے لیئے عرض ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں فیس بک کے حملے سے پہلے اردو انجمن اردو ادب کی خدمت کرنے والے معتبر ترین فورمز میں سے ایک تھا۔ اس وقت ہم اس مزے سے اردو رسم الخط میں لکھ نہیں سکتے تھے اور رومن تحریر پہ مجبور تھے۔ خیر سرور راز صاحب کی صحبت نے میرے باغیانہ طرزِ کلام کو روئیتی شعری تہذیب اور رنگِ تغزل سے قریب تر کرنے میں بہت کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے اور علمِ عروض کے حوالے سے لاتعداد شعری نشستیں ہوئیں مکالمے ہوئے ادوارِ نقد و نظر چلے اور وقت آگے بڑھ گیا۔ پھر فیس بک کی دنیا میں جلیل عالی صاحب سے تعارف حاصل ہوا۔ آپ کی ہمہ گیر علمی اور ادبی شخصیت ایک طرف لیکن جو بات مجھے آپ کے زیادہ قریب لائی وہ آپ کا اخلاصِ فکر و بیان اور ایک یہ احساس کہ علمی، معاشرتی، مذہبی اور سیاسی معاملات پہ اکثر انہیں لکیر کے اُسی جانب پایا جہاں خود کو دیکھا اور سمجھا۔ آپ سے براہِ راست اکتسابِ فیض کے یوں تو مواقع کم ہی نصیب ہوئے البتہ مطبوعہ تحریریں اپنا کام کرتی رہیں اور گاہے گاہے ہلکا پھلکا رابطہ بھی چلتا رہا۔ لیکن اصل کام آپ کی زبان درازی کر گئی۔ سرور صاحب نے جس زبان کو روائیتی شکنجے میں باندھنے پہ بھرپور محنت کی تھی عالی صاحب کی زباں درازیوں کے زیرِ اثر اس نے بھی دوبارہ کچھ نہ کچھ رسیاں تڑوا ڈالیں۔
عالی صاحب کے فن اور اُن کی شخصیت پہ الفاظ کی تو کوئی کمی نہیں اس لیئے ابھی کلام کو یہں روک دیتے ہیں کسی اگلی نشست کے لیئے۔ فی الحال پیش کردہ غزل سے لطف اندوز ہوں۔ زندگی رہی تو انشاللہ اپ کی دوسری جہت کی توانا غزلوں کا رنگ آہنگ دریافت کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔
والسلام
سہیل ملک
Today on Kalaam-e-Sohail, we are proud to feature the renowned poet and intellectual, Jalil Aali, reciting his beautiful Ghazal, "Nahi Ke Koi Khushi Ki Ghari Nahi Aai"