Shaikh Inayatullah Madani Ka ilmi Jawab | Ghalat Fehmi ka izala #Dalail ke Saath #shortvideo #art
Tarique Ikra Rajdhani
0:00 / 0:00
Shaikh Inayatullah Madani Ka ilmi Jawab | Ghalat Fehmi ka izala #Dalail ke Saath #shortvideo #art
2 435 просмотров · 8 дней назад
Tarique Ikra Rajdhani
1,48 тыс. подписчиков
2 435 просмотров · 8 дней назад
#شیخ عبدالقدیر عمری نے کوئی ایسی بات نہیں کہہ دی تھی کہ ان پر اتنی سخت گرفت کی جاتی، مسئلے پر علمی گفتگو اور دلائل کی روشنی میں اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی رائے سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ شخصیت کو نشانہ بنایا جائے اور اس کے منہج ہی پر حملے شروع کر دیے جائیں۔
مسجد میں شرعی علوم کے علاوہ دیگر نافع اور مباح علوم کی تدریس یا ان کا مطالعہ کرنے کی اصل ہمیں سنت اور اہلِ علم کے کلام میں ملتی ہے۔
#مسجد میں حبشیوں کے نیزوں کے ساتھ کھیلنے والی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فما كان من الأعمال يجمع منفعة الدين وأهله جاز.
ترجمہ: ’’جو کام دین اور اہلِ دین کے لیے نفع بخش ہو، وہ جائز ہے۔‘‘ (فتح الباری)
کیا مسلم نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانا اور ملت
حوالہ: الآداب الشرعیۃ،
ان فتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں نافع اور مباح دنیاوی علوم کی تدریس اور مطالعے کے جواز کا قول محض کسی ایک عالم کی انفرادی رائے نہیں، بلکہ متعدد معروف اہلِ علم نے اس کی گنجائش بیان کی ہے۔ البتہ اس جواز کی حدود، افضل طریقے اور مسجد کے آداب سے متعلق تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان بحث ہو سکتی ہے۔
#asmr #automobile #ai
اگر ہمارے قدیم فقہی ذخیرے میں اس مخصوص صورتِ حال کی صریح مثال نہ بھی ملے، تب بھی اسے معاصر نوازل کے ضمن میں رکھ کر اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
#abdulQadeerumri#baby #bangluru #masti #masjid
ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور تعلیمی میدان میں انہیں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، تعلیمی وسائل کی کمی اور مواقع کی قلت جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال قابلِ غور ہے کہ کیا مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے مسجد کے محدود اور منضبط استعمال کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟
خصوصاً جب مقصد مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنا، انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھانا اور ملت میں ڈاکٹروں سمیت دیگر ماہرین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو، تو اس پہلو پر شرعی اصولوں اور متعلقہ مصالح کی روشنی میں گفتگو کی جا سکتی ہے۔
اور اگر اس مسئلے میں شرعی گنجائش نہیں بھی نکلتی، تب بھی علمی اعتبار سے اس رائے کی تردید کی جا سکتی ہے۔ خود شیخ عبدالقدیر عمری حفظہ اللہ نے اپنی گفتگو کا آغاز ہی اس بات سے کیا ہے کہ ’’علماء سے مشورہ کرو!‘‘ لہٰذا اگر کوئی عالمِ دین شیخ کے موقف سے مطمئن نہیں ہے تو اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ علمی انداز میں دلائل کے ساتھ اس موقف کا رد کرے۔ لیکن کسی علمی رائے سے اختلاف کرنے کا یہ اسلوب ہرگز مناسب نہیں کہ براہِ راست شخصیت کو نشانہ بنایا جائے اور بات کو منہج پر طعن و تشنیع تک پہنچا دیا جائے۔
#motivation #motivation #minecraft #motivational #mombai #bombay #short #shortsfeed
اگر شیخ کی بات غلط بھی تھی تو اسے غلط قرار دے کر دلائل کے ساتھ اس کی تردید کر دینا کافی تھا۔ ہر غلطی کو منہج سے جوڑ دینا، ایک فقہی رائے سے اختلاف کی بنیاد پر منہج ہی کو نشانہ بنانا، اور ایک سلفی عالمِ دین کو ’’عقلانی‘‘، ’’خارجی‘‘ اور ’’عقل پرست‘‘ جیسے القاب سے نوازنا صریح ناانصافی اور ظلم ہے۔
#madina #Madani
شیخ عبدالقدیر عمری حفظہ اللہ جنوبی ہند کے نمایاں سلفی علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے علمِ دین کی خدمت اور سلفی دعوت کی اشاعت میں مصروف ہیں اور توحید و سنت کے داعی ہیں۔ ایسے عالمِ دین کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے زبان و بیان میں احتیاط، انصاف اور علمی دیانت کا مظاہرہ کرنا زیادہ ضروری ہے، خصوصاً جب اختلاف کا موضوع کوئی ایسا فقہی مسئلہ ہو جس میں اہلِ علم کے اقوال اور اجتہادا
اپنے ہی علماء کے ساتھ اس قدر سخت زبان استعمال کرنا نہ صرف علمی دیانت اور آدابِ اختلاف کے خلاف ہے، بلکہ اس طرزِ عمل سے سلفی دعوت کو تقویت ملنے کے بجائے اس کی ساکھ اور اتحاد کو نقصان ہی پہنچتا۔
اللہ ہم سب کو درست طرز عمل اختیار کرنے کی توفیق دے۔