How to offering Praying behind the Imam | Sunnah Method | in Urdu/Hindi| امام کے پیچھے نماز کا طریقہ
Sunehri Batain
0:00 / 0:00
How to offering Praying behind the Imam | Sunnah Method | in Urdu/Hindi| امام کے پیچھے نماز کا طریقہ
988 507 просмотров · 9 лет назад
Sunehri Batain
57,8 тыс. подписчиков
988 507 просмотров · 9 лет назад
How to offering Praying behind the Imam | Sunnah Method | in Urdu/Hindi| امام کے پیچھے نماز کا طریقہ
...........................................................................................................................................................
السلام عیلکم ۔اس ویڈیو میں نے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا سنت طریقہ بتایا ہے یہ عین فقہ حنفی کے مطابق ہے اگر کسی بھائی کو اس طریقہ کے حوالے سے کچھ مزید پوچھنا ہو یا احادیث کے حوالہ جات کی ضرورت ہو تو وہ مجھے سے اس نمبر پر اپنا سوال پوچھ سکتا ہے ۔ 03214654298 شکریہ
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
جواب:
امام کے پیچھے مقتدی نماز میں فاتحہ یا قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت نہ پڑھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، صحابہ و ائمہ کبار کا معمول ہے۔ یہ قاعدہ یاد رکھ لیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اس کا فرمان سب سے بڑا ہے، جو بات قرآن سے ثابت ہو اس پر اعتراض مسلمان کا کام نہیں۔ قرآن مجید کے مقابلہ میں نہ کوئی روایت پیش ہو سکتی ہے نہ کسی بزرگ کا قول۔ مسئلہ مسؤلہ میں ہم پہلے قرآن کریم سے ہدایت لیں گے، پھر حدیث پاک سے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ.
(الاعراف، 7 : 204)
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
یہ قرآن حکیم کا حکم ہے جس میں کوئی شک نہیں، واضح ہے کوئی ابہام نہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور چپ رہو۔ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو مت سنو اور مت خاموش رہو، بلکہ تم بھی پڑھا کرو جب امام فاتحہ پڑھتا ہے تم بھی پڑھو، نہیں بلکہ فاتحہ بھی قرآن مجید کی ایک سورت ہے۔ لہٰذا قرآن ہے اور امام چونکہ تلاوت کر رہا ہے، لہٰذا سب کو غور سے سننے اور چپ رہنے کا حکم ہے، اب جو صاحب یہ فرمائیں کہ امام کے پیچھے مقتدی بھی فاتحہ پڑھے، اس سے قرآن مجید کی آیت پوچھیں۔ قرآن کا مقابلہ حدیث سے نہیں ہو سکتا نہ روایت قرآن کی آیت کو منسوخ کرتی ہے۔
ظہر اور عصر میں نماز میں قرات آہستہ ہوتی ہے جو سنی نہیں جاتی، فجر، مغرب اور عشا کی نمازوں میں قرات با آواز بلند ہوتی ہے جو سنی جاتی ہے، گویا قرآن مجید کی دو صورتیں ہوئیں۔
1۔ جہری، یعنی بلند آواز کے ساتھ، جیسے فجر، مغرب اور عشا
2۔ سری، یعنی آہستہ، جیسے ظہر و عصر۔
لہٰذا ایک ہی آیت میں دو حکم فرمائے گئے، ایک یہ کہ کان لگا کر سنو، یعنی جب آواز آئے، جیسے جہری نمازوں میں۔ دوسرا چپ رہو، یعنی جب آواز نہ آئے، جیسے سری نمازوں میں۔
حدیث پاک کی توضیح :
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لا صلوة لمن لم يقرا بفاتحة.
جو فاتحہ نہ پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من صلی صلوة لم يقرا فيها بام القرآن فهی خداج ثلاثا غير تام.
(صحيح مسلم، 1 : 149)
جس نے ایسی نماز پڑھی جس میں فاتحہ نہ پڑھی وہ نماز ناقص ہے۔ تین بار فرمایا مکمل نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جب تم نماز کے لیے آؤ اس وقت ہم سجدے میں ہوں۔
فاسجدوا و لا تعدوه شياء و من ادرک رکعة فقد ادرک الصلوٰة.
(سنن ابی داؤد، 1 : 136)
تو تم بھی سجدہ کرو اور اس کا شمار نہ کرنا، اور جس نے رکوع پا لیا اس نے (رکعت) پا لی۔
کیا فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ؟
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، حدیث پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان، فعل یا تقریر ہے، قرآن مجید میں کمی بیشی جائز نہیں۔ حدیث پاک میں کسی راوی سے غلطی سے کمی بیشی ہو سکتی ہے، اس لیے صحت حدیث کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے خلاف نہ ہو۔ قرآن مجید نے فاتحہ پڑھنے کی قید نہیں لگائی بلکہ جو بھی قرآن مجید جہاں سے آسان ہو پڑھنا فرض قرار دیا، تو اب فاتحہ کی تخصیص بطور فرض قرآن کے عموم و اطلاق کے خلاف ہوگا۔ ہاں مطلق قرآن پڑھنا، قرآن مجید کی رو سے فرض ہے اور فاتحہ پڑھنا بحکم حدیث واجب۔
اگر فاتحہ کے علاوہ قرآن پڑھنا تو فرض ادا ہو جائے گا۔ لیکن واجب رہ گیا۔ غلطی سے ایسا کیا تو سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہو جائے گی۔ دانستہ کیا تو دوبارہ ادا کرے کہ واجب الاعادہ ہے، فھی خداج کا مفہوم یہی ہے۔ نماز نہ ہوئی کا مفہوم یہی ہے کہ ناقص ہوئی۔ جس نے امام کے پیچھے رکوع پا لیا اس نے پوری رکعت پا لی، اگر فاتحہ پڑھنا فرض ہو تو رکعت کیسے مل سکتی ہے؟ حالانکہ بالاتفاق رکوع میں ملنے والا رکعت پا لیتا ہے۔ پتہ چلا کہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں۔
امام کے پیچھے فاتحہ یا دیگر قرآن نہ پڑھنے کا حکم حدیث پاک سے :
1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہری قراءت والی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :
هل قرا معی احد منکم انفا فقال رجل نعم يا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم، قال انی اقول مالی انازع القرآن قال فانتهی الناس عن القراة مع رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فيما جهر فيه، بالقراة عن الصلوة حين سمعوا ذلک من رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.
(مالک، احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجه، بحواله مشکوٰة : 81)
ابھی ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرآن پڑھا؟ ایک شخص نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فرمایا میں کہہ رہا تھا میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں ہو رہا ہے؟ کہا اس کے بعد جب لوگوں نے یہ بات جہری نمازوں کے بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن لی تو قراءت خلف الامام ترک کر دی۔