Перейти к содержимому

Tafseer ul Quran|Surah Al_Shuaraa|verse 21 to 33part1/فرعون کے اعتراضات کے جوابات،معجزہ عصا اور ہاتھ

Mufti Ahmad Ali Ghori

0:00 / 0:00

Tafseer ul Quran|Surah Al_Shuaraa|verse 21 to 33part1/فرعون کے اعتراضات کے جوابات،معجزہ عصا اور ہاتھ

5 просмотров · 9 дней назад
Mufti Ahmad Ali Ghori
292 подписчика
5 просмотров · 9 дней назад
سُورةُ الشُّعرآء آیت 21 تا 33 پارٹ 1 پارہ 19 When Prophet Moses (peace be upon him) was bestowed with prophethood and sent to Pharaoh's court with the message of Monotheism (Tawhid) and the liberation of the Children of Israel, Pharaoh, instead of accepting the truth, raised two primary objections against Prophet Moses (peace be upon him): ​The First Objection: Pharaoh taunted him, saying that they had raised him in their home during his childhood, nurtured him, and that he had spent a long period of his life among them, yet he was now claiming prophethood before them. ​The Second Objection: He reminded Prophet Moses (peace be upon him) of his past, stating that he had killed a man from the Coptic community and was ungrateful. ​Prophet Moses (peace be upon him) provided highly reasonable and logical responses to both objections: ​Response to the Allegation of Manslaughter: Prophet Moses (peace be upon him) stated that the incident occurred unintentionally as a mistake (error). His intention was not to kill that person; rather, he had merely struck him with a punch, and a punch does not ordinarily result in loss of life. It was an unforeseen accident, not an intentional crime. ​Response to the Favor of Upbringing: Unveiling the true reality of the favor Pharaoh was boasting about, Prophet Moses (peace be upon him) stated that the very reason for the upbringing he claimed as a favor was his own tyranny and oppression. Pharaoh had enslaved the Children of Israel and ordered the slaughter of their newborn male children, out of fear of which his mother placed him in a chest and entrusted him to the flow of the river. The system of Divine Destiny brought him to Pharaoh's palace. Had it not been for Pharaoh's oppression, he would have remained in his own parents' home. Therefore, an event resulting from an act of tyranny cannot be labeled as a favor. ​ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کر کے فرعون کے دربار میں توحید اور بنی اسرائیل کی آزادی کا پیغام دے کر بھیجا گیا، تو فرعون نے حق کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر دو بنیادی اعتراضات اٹھائے: پہلا اعتراض: فرعون نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمہیں بچپن میں اپنے گھر میں پالا، تمہاری پرورش کی اور تم نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ ہمارے درمیان گزارا، پھر بھی تم ہمارے سامنے دعوٰی نبوت کر رہے ہو؟ دوسرا اعتراض: اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کا ماضی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ تم نے ہمارے قبطی قوم کے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اور تم ناشکرے ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دونوں اعتراضات کے نہایت معقول اور منطقی جوابات دیے: قتل کے اعتراض کا جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ واقعہ مجھ سے غیر ارادی طور پر غلطی (خطا) میں سرزد ہوا تھا۔ میرا مقصد اس شخص کو قتل کرنا نہیں تھا، بلکہ میں نے محض ایک گھونسا (مکا) مارا تھا، اور عام طور پر گھونسے سے کسی کی جان نہیں جاتی۔ وہ ایک ناگہانی حادثہ تھا، کوئی عمدًا کیا گیا جرم نہیں تھا۔ پرورش کے احسان کا جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے احسان جتلانے کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جس پرورش کا احسان مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی اصل وجہ تمہارا اپنا ظلم و ستم ہے۔ تم نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا اور ان کے نوزائیدہ بچوں کو ذبح کرواتے تھے، جس کے ڈر سے میری ماں نے مجھے صندوق میں رکھ کر دریا کے بہاؤ کے سپرد کیا۔ قدرت کے نظام نے مجھے تمہارے محل تک پہنچایا۔ اگر تمہارا یہ ظلم نہ ہوتا تو میں اپنے والدین کے گھر ہی میں رہتا۔ لہٰذا، ایک ظلم کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعہ کو احسان کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ جب فرعون ان اعتراضات کے جوابات سے لاجواب ہو گیا، تو اس نے بات کا رخ موڑتے ہوئے رب کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پوچھا کہ "رب العالمین کیا ہے؟" حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و حقیقت انسان کی محدود عقل سے بالاتر ہے، اس لیے انہوں نے حقیقت کے بجائے رب کی صفات کا ذکر فرمایا کہ وہ مشرق و مغرب اور تمام کائنات کا رب ہے۔ اس پر فرعون نے حق کا انکار کرتے ہوئے معجزات کا مطالبہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے اپنے دو نمایاں معجزات دکھائے: عصا کا معجزہ: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ ایک خوفناک اژدہا بن گیا، جسے دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری شدید گھبراہٹ اور خوف کا شکار ہو گئے۔ یدِ بیضا کا معجزہ: جب انہوں نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا، تو وہ بغیر کسی بیماری کے سورج کی طرح روشن اور چمکتا ہوا نظر آنے لگا۔ ان واضع معجزات کو دیکھ کر فرعون مزید سرکش ہو گیا اور اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اپنے اس مظلومانہ قید خانے اور سخت سزاؤں کا ذکر کیا جس کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ 500 گز گِہرا کنواں تھا جس میں زہریلے سانپ اور بچھو چھوڑے جاتے تھے۔ اس تمام تر فرعونی تکبر اور دھمکیوں کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام ثبات قدمی کے ساتھ توحید کے پیغام پر ڈٹے رہے۔۔۔۔! ​#HazratMusa ​#ProphetMoses ​#QuranicStories ​#PharaohAndMoses ​#IslamicHistory