Tajul Olama Molana Ali Mohd Naseerabadi Ep-125تاج العلماءمولانا علی محمد نصیر آبادی
Baseerat
0:00 / 0:00
Tajul Olama Molana Ali Mohd Naseerabadi Ep-125تاج العلماءمولانا علی محمد نصیر آبادی
339 просмотров · 3 мес. назад
Baseerat
2,9 тыс. подписчиков
339 просмотров · 3 мес. назад
انیسویں صدی کا ہندوستان سیاسی انتشار، فکری کشمکش اور استعمار کی یلغار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ایسے پُر آشوب عہد میں لکھنؤ کی سرزمین سے ایک ایسی علمی و فکری شخصیت ابھری جس نے قلم کو ڈھال اور فکر کو چراغ بنایا۔ یہ تھے مولاناعلی محمد بن محمد بن دلدار علی نقوی نصیر آبادی ، جو تاریخ میں تاجُ العلماء کے لقب سے معروف ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف مذہبی علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں بلکہ اپنے عہد کے فکری چیلنجز کا مدلل اور باوقار جواب بھی دیا۔
تاجُ العلماء سن ۱۸۴۶ عیسوی کو لکھنو کے ایک ایسے علمی خانوادے میں پیدا ہوئے جہاں علم و فقاہت نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی۔ ان کے جدِّ امجد علامہ سید دلدار علی نقوی ، المعروف غفران مآب، برصغیر کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے، جبکہ تاجُ العلماء کے والد سلطان العلماءبھی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم تھے۔ اس خاندانی پس منظر نے تاجُ العلماء کی شخصیت کو ابتدا ہی سے علمی وقار اور فکری گہرائی عطا کی۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا محمد علی المعروف قائمة الدین، مفتی محمد عباس شوشتری اورمولانا احمد علی محمد آبادی جیسے بزرگوں سے حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے والد سے فقہ، اصول اور دیگر عقلی و نقلی علوم کی تکمیل کی۔آپ کم سنی ہی میں علمی پختگی حاصل کر چکے تھے ۔
لیکن علمی تشنگی نے انہیں عتباتِ عالیات تک پہنچایا۔ وہ عراق کے مقدس شہر کربلا گئے، جہاں انہوں نے نامور اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اور مختصر قیام کے باوجود علمی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تاج العلماء کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے معروف عالم میرزا علی نقی طباطبائی نے اجازہ نقل روایت عطا کیا اسی طرح کربلا کے دیگر علماء جیسے زین العابدین مازندرانی، سید علی طباطبائی بحر العلوم، راضی نجفی، حسین فاضل اردکانی، حسن شہرستانی اور سید محمد ترک نےبھی اجازہ نقل روایت عطاء کئے۔ اسی دوران حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی، جس نے ان کی روحانی و فکری تربیت کو مزید جِلا بخشی۔
علمی مقام کے اعتبار سے تاجُ العلماء کا شمار اپنے عہد کے صفِ اوّل کے علماء میں ہوتا ہے۔ معروف محقق آقا بزرگ تہرانی نے علمِ تفسیر میں ان کا ذکر اکابر مفسرین کے ساتھ کیا ہے۔ وہ فقہ، اصول، کلام، تفسیر، منطق اور فلسفہ میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے شدت پسند اخباریت پر تنقید کی، مگر اعتدال اور توازن کو ہمیشہ مقدم رکھا، جس سے ان کی فکری بصیرت اور علمی دیانت واضح ہوتی ہے۔
آپ نے تدریس کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار شاگردوں کی تربیت کی ، جن میں سے بعض خود صاحبِ اجتہاد بنے۔ ان کا حلقۂ درس محض معلومات کی ترسیل کا مرکز نہ تھا بلکہ فکری تربیت اور اعتدال پسند دینی شعور کی آبیاری کا سرچشمہ بھی تھا۔
تاج العلماء کے شاگردوں میں : ۔۔۔۔۔۔۔مولانا محمد حسین نوگانوی، مولانا اصغر حسین اور مولانا رضا حسین کے نام نمایاں ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب جدیدیت اور نیچریت کے افکار ہندوستانی معاشرے میں سرایت کر رہے تھے۔ سر سید احمد خان کی عقلی تعبیرات نے مذہبی حلقوں میں بحث و مباحثہ کو جنم دیا۔ تاجُ العلماء نے ان نظریات کا رد محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ علمی استدلال کے ساتھ کیا۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسے مدلل جوابات تحریر کیے جنہوں نے مذہبی فکر کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
تصنیفی میدان میں ان کی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ فقہ و اصول میں ان کی معرکۃ الآراء تصنیف عماد الاجتہاد نے علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ تفسیر، کلام، اخلاق، سیاست اور تاریخ جیسے موضوعات پر بھی متعدد کتابیں تحریر کیں۔ عربی و فارسی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی ان کی تصانیف نے دینی ادب کو وسعت عطا کی۔
آپ کی تصانیف میں تحفة الواعظین، درّ بیبہا، شرح زیارة الناحیة، مواعظ جوادیة، تفسیر سورہ ہل اتیٰ، عماد الاجتہاد، تفسیر سورہ یوسف، احسن القصص، رسالہ مہدویہ، شرح خطبہ شقشقیہ، ترجمہ دعائے صباح، تحقیق صدوق، نصر المؤمنین ، ردّ پادری عماد الدین ، قرآنِ کریم کا اردو ترجمہ ، نماز کے مفاہیم کا ترجمہ، الفیۂ شہید کا ترجمہ اور وعظ و اخلاق پر متعدد کتب وغیرہ آپ کے قلمی آثار میں شامل ہیں۔
برطانوی استعمار کے دور میں انہوں نے فکری و اخلاقی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی پسماندگی کا اصل سبب علمی زوال اور داخلی انتشار تھا۔ وہ تعلیم، اتحاد اور فکری بیداری کو نجات کا راستہ سمجھتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نسل پر خصوصی توجہ دی۔
لسانی سطح پر بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں موصوف نے اردوزبان کو فروغ دیا اور وعظ، ترجمہ اور تالیف کے ذریعے اردو زبان کو علمی اظہار کا مضبوط وسیلہ بنایا۔
خداوند عالم نے نے آپ کو دو صاحبزادے عطا کیےجو سید علی احمد نقوی اور سید محمد نقوی کے نام سے پہچانے گئے
اخلاقی و روحانی اعتبار سے بھی تاجُ العلماء کی شخصیت نہایت متوازن اور جامع تھی۔ ان کے نزدیک علم کا مقصد محض مناظرہ آرائی نہ تھا بلکہ کردار سازی اور اصلاحِ نفس تھا۔ ان کی اخلاقی تصانیف اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ ایک مصلح، مربی اور رہبر کی حیثیت رکھتے تھے۔
آخرکار یہ علم و عمل کا درخشان مہتاب ۴/ اکتوبر۱۸۹۴ عیسوی بروز جمعرات سرزمین لکھنؤ پر خاموش ہو گیا۔ نماز جنازہ کے بعد ہزار آہ و بکاء کے ہمراہ امامبارگاہ غفرانمآ ب لکھنو میں سلطان العلماء کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ماخوذ از : نجوم الہدایہ، تحقیق و تالیف: مولانا غافر رضوی چھولسی و مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی، ج5، ص۲۸۹ دانشنامۂ اسلام، انٹرنیشنل نورمیکروفلم دہلی، ۲۰۲۴ء
ShiaOlama #Biography #Documentary #Islam #noormicrofilm #ShiaHistory #IslamicVideo