Перейти к содержимому

Huroof e Mushabba Bilfel | Marfo | #arabicgrammar #nahw #allama_mansoor

Allama Mansoor Maturidi

0:00 / 0:00

Huroof e Mushabba Bilfel | Marfo | #arabicgrammar #nahw #allama_mansoor

2 169 просмотров · 2 года назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
2 169 просмотров · 2 года назад
8) حروف مشبہ بالفعل کی خبر: حروف مشبہ بالفعل کل چھ حروف ہیں : اِنَّ، اَنَّ، کَأَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں وجہ تسمیہ : جس طرح فعل اپنے فاعل کو رفع اور مفعول بہ کو نصب دیتا ہے اسی طرح حروف مشبہ بالفعل اپنی خبر کو رفع اور اسم کو نصب دیتے ہیں، اسی لئے ان کو مشبہ بالفعل یعنی فعل سے مشابہت رکھنے والے حروف کہا جاتا ہے۔ حروفِ مشبہ بالفعل کی قرآن سے مثالیں: 1- اِنَّ: جملہ اسمیہ میں تاکید پیدا کرنے کے لئے آتا ہے، مثلا: اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ، بیشک اللہ وسیع علم والا ہے، اس مثال میں وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ، اِنَّ کی خبر ہے، مرفوع ہے۔ 2- اَنَّ: بھی جملہ اسمیہ میں تاکیدپیدا کرنے کے لئے آتا ہے، مثلا: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، اور جان رکھو کہ بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے، اس مثال میں شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، اَنَّ کی خبر ہے مرفوع ہے۔ 3- کاَنَّ: تشبیہ دینے کے لئے آتا ہے، مثلا: كَاَنَّ هُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ، گویا وہ (حوریں) یا قوت اور مرجان ہوں ، اس مثال میں الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ، كَاَنَّکی خبر ہے مرفوع ہے۔ 4- لٰکِنَّ: استدراک کے لئے آتا ہے ، یعنی سابقہ کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنے کے لئے آتا ہے مثلا: وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُمْ بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ، اور (بروزِ قیامت) تو لوگوں کو نشہ میں دیکھے گا حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اﷲ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا ۔ اس مثال میں شَدِيدٌ ، لکن کی خبر ہے مرفوع ہے۔ 5- لَیْتَ: تمناکے لئے آتا ہے مثلا: قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ، شہید سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جاتو اُس نے کہا : اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔ اس مثال میں يَعْلَمُونَ ، لَیْتَ کی خبر ہے محلاً مرفوع ہے ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا : لَيْتَ هَذَا عِنْدِي، کہ کاش !یہ میرے قریب ہوتے۔ اس مثال میں عِنْدِي ، لَیْتَ کی خبر ہے مرفوع ہے 6- لَعَلَّ : ترجّی کے لئے یعنی کسی چیز کی امید ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے مثلا: لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ، ترجمہ: شاید قیامت قریب ہی ہو اس مثال میں قریبٌ خبر ہے، لعل کی، مرفوع ہے