Перейти к содержимому

Sad song 😭💔 Broken heart #sad #sadsong #plz_subscribe_my_channel #sadsong

Raziq Hafeez

0:00 / 0:00

Sad song 😭💔 Broken heart #sad #sadsong #plz_subscribe_my_channel #sadsong

12 просмотров · 5 дней назад
Raziq Hafeez
6 подписчиков
12 просмотров · 5 дней назад
🎵 خالی اسٹیشن کی بینچ Verse 1 وہ شام بھی کیا شام تھی، سب کچھ ٹھہر گیا اک شخص کے انتظار میں وقت بھی بکھر گیا ہاتھوں میں ایک خط تھا، آنکھوں میں سوال دل کو تھا یقین، آئے گا وہ ہر حال ریل کی صدا آئی، لوگ سب چل دیے کچھ خواب میرے قدموں میں چپکے سے مر گئے میں دیر تک وہیں بیٹھا رہا تنہا جس کو آنا تھا، وہ پھر بھی نہ آیا Chorus / Hook خالی اسٹیشن کی بینچ پر آج بھی ایک قصہ رہتا ہے جس کا سفر ادھورا تھا وہ دل میں زندہ رہتا ہے ٹرینیں آتی جاتی ہیں پر کوئی واپس نہیں آتا خالی اسٹیشن کی بینچ پر اک انتظار ٹھہرا رہتا ہے Verse 2 وہ آخری خط اب بھی میرے پاس ہے مگر اس میں کوئی نیا احساس نہیں لفظوں کے بیچ جو خاموشی تھی شاید وہی میری آخری بات تھی میں نے اسے سینے سے لگا کر رکھا جیسے بچھڑا ہوا کل سنبھال کر رکھا وقت گزرا، شہر بدلتے گئے مگر کچھ لوگ دل سے نہ نکلتے گئے Chorus / Hook خالی اسٹیشن کی بینچ پر آج بھی ایک قصہ رہتا ہے جس کا سفر ادھورا تھا وہ دل میں زندہ رہتا ہے ٹرینیں آتی جاتی ہیں پر کوئی واپس نہیں آتا خالی اسٹیشن کی بینچ پر اک انتظار ٹھہرا رہتا ہے Verse 3 کبھی مسافروں کے چہروں میں ڈھونڈتا ہوں کسی پرانی سی امید کو دیکھتا ہوں کوئی ہنس کر کسی کو بلاتا ہے تو دل جانے کیوں رک سا جاتا ہے پھر یاد آتا ہے، وہ دن گزر گیا جو میرا تھا، وہ لمحہ بچھڑ گیا اب صرف پٹریوں کی آواز ہے اور دل میں ایک ادھوری سی آواز ہے Chorus / Hook خالی اسٹیشن کی بینچ پر آج بھی ایک قصہ رہتا ہے جس کا سفر ادھورا تھا وہ دل میں زندہ رہتا ہے ٹرینیں آتی جاتی ہیں پر کوئی واپس نہیں آتا خالی اسٹیشن کی بینچ پر اک انتظار ٹھہرا رہتا ہے Verse 4 میں نے کئی بار وہاں جانا چھوڑا پھر کسی یاد نے مجھے واپس موڑا وہی پلیٹ فارم، وہی سرد ہوا بس میرے ساتھ اب کوئی نہ تھا جس جگہ کبھی امید کھڑی تھی وہ جگہ اب بھی ویسی ہی پڑی تھی فرق صرف اتنا تھا اس بار میرے ہاتھ میں نہیں تھا کوئی انتظار Chorus / Hook خالی اسٹیشن کی بینچ پر آج بھی ایک قصہ رہتا ہے جس کا سفر ادھورا تھا وہ دل میں زندہ رہتا ہے ٹرینیں آتی جاتی ہیں پر کوئی واپس نہیں آتا خالی اسٹیشن کی بینچ پر اک انتظار ٹھہرا رہتا ہے Verse 5 اب اگر کبھی وہ لوٹ بھی آئے شاید مجھے وہاں نہ پائے میں نے بھی سیکھ لیا ہے چلنا ہر بچھڑنے والے کے لیے نہ رکنا مگر اس بینچ کو کیسے بھلاؤں جہاں بیٹھ کر خود کو سمجھاؤں کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں اور عمر بھر دل میں رہتے ہیں Final Outro ٹرین کی سیٹی دور ہوئی شام بھی آہستہ چور ہوئی بینچ وہیں، میں آگے بڑھ گیا اک پرانا سا موسم پیچھے رہ گیا اب انتظار نہیں، بس ایک نشان ہے جو گزر گیا وہ دل کی داستان ہے خالی اسٹیشن کی بینچ پر میرا گزرا ہوا کل رہتا ہے۔