Перейти к содержимому

Hadith Mutwatir Mukammal Tafseelat حدیث متواتر مکمل تفصیلات

Mazameen AhleSunnat Article

0:00 / 0:00

Hadith Mutwatir Mukammal Tafseelat حدیث متواتر مکمل تفصیلات

1 262 просмотра · 4 года назад
Mazameen AhleSunnat Article
128 подписчиков
1 262 просмотра · 4 года назад
خبر متواتر . تعريف : لغوی تعریف : یہ تواتر سے مشتق ہے اور اسم فاعل کا صیغہ ہے بمعنی تابع (لگاتار اور مسلسل آنا) آپ کہتے ہیں تواتر المطر (بارش متواتر ہوئی) مینی بارش کا نزول لگاتار اور مسلسل ہوا۔ اصطلاحی تعریف : جسے ایک بڑی جماعت روایت کرے کہ عادت اس کثرت تعداد کے جھوٹ پر متفق و جمع کو محال جانے (یعنی جس خبر کو اتنی کثرت تعداد سے راوی روایت کریں کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونا عاد تا محال ہو) تعریف کا معنی : یعنی وہ حدیث یا خبر جسے سند کے طبقوں میں سے ہر طبقہ میں اتنے کثیر اور زیادہ راوی روایت کریں کہ عقل عادتا ( یی) فیصلہ دے کہ اتنے زیادہ راویوں کا اس حدیث کے بنانے اور گھڑنے پر جمع و متفق ہونا محال ہے۔ ۲۔ متواتر کی شرائط : تعریف کی تشریح سے واضح ہو تا ہے کہ خبر میں تواتر کے تحقق و اثبات کے لیے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ خبر متواتر نہیں ہو گی۔ وہ چار شرائط یہ ہیں (۱) اس خبر کو کثیر تعداد روایت کرے۔ کم از کم کثرت میں کئی اقوال ہیں۔ پسندیدہ ۔ اور مختار قول یہ ہے کہ اس شخص ہوں۔ ( تدریب الراوی ج ۲ ص ۱۷۷) (ج) میں کثرت سند کے تمام طبقوں میں موجود ہو۔ (ج) عادت ان کے جھوٹ پر متفق ہونے کو محال جائے۔ (یہ اس صورت میں کہ وہ مختلف خطوں اور مختلف ممالک سے ہوں اور مختلف مذاہب سے ہوں وغیرہ میں ۔ وجہ ہے کہ بعض اوقات خبر دینے والے لوگوں کی تعداد کثیر ہوتی ہے مگر وہ حکما متواتر سے نہیں ہوتی جب کہ بعض اوقات روات کی تعداد کم ہوتی ہے مگر خبر کا حکم متواتر کا ہوتا ہے بس یہ سب روات کے حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے) ان کی خبر کا اعتماد حس پر ہو جیسے وہ کہیں ((سمعنا) ہم نے سنا ((راینا ہم نے دیکھا (المسنا) ہم نے چھوا وغیرہ۔ لیکن اگر ان کی خبر کا انحصار و استناد عقل پر ہو جیسے کہنا کہ عالم حادث ہے تو ایسی خبر متواتر نہیں کہلاۓ گی۔ (د) ۔ متواتر کا حکم : خبر متواتر علم ضروری یعنی یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔ علم یقینی وہ علم ہے کہ جس کی پختہ و جازم تصدیق کرنے پر انسان مجبور اور لاچار ہو تا ہے۔ جیسے کوئی خود معاملہ کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ کیسے اس معاملے میں متردد ہو گا۔ پس اسی طرح خبر متواتر ہے۔ اس لیے متواتر تمام کی تمام مقبول ہوتی ہے۔ اس کے راویوں کے حالات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ۴۔ متواتر کی قسمیں : خبر متواتر کی دو اقسام ہیں، لفظی اور معنوی۔ متواتر لفظی : جس کے لفظ اور معنی دونوں تواتر سے ثابت ہوں۔ مثال : جیسے یہ حدیث ہے جس نے مجھ پر جان بوجھ کر ( عمد ا) جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔“ اسے ۷۳ سے زائد صحابہ مین نے روایت کیا ہے۔ متواتر معنوی : جس کے معنی تواتر سے ثابت ہوں مگر لفظ نہیں۔ مثال جیسے دعا میں ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں۔ آنحضرت ﷺﷺ سے اس بارے میں کوئی سو کے قریب احادیث مروی ہیں ان میں سے ہر حدیث میں میں ہے (عدد مشترک) کہ آپ نے دعا میں ہاتھ اٹھائے مگر معاملات و واقعات اور قضیے مختلف ہیں تو ان میں سے ہر واقعہ اور قضیہ متواتر نہیں اور ان سب میں جو قدر مشترک ہے وہ ہے دعا میں ہاتھ اٹھانا جو کہ مجموعی سندوں کے اعتبار سے تواتر سے ثابت ہو رہی ہے۔ ( تدریب الراوی ج ۲، ص ۱۸۰) ۔ متواتر کا وجود : متواتر احادیث کی ایک مناسب اور کافی تعداد موجود ہے جن میں سے ایک حوض والی حدیث ہے اور موزوں پر مسح کی حدیث اور نماز میں رفع الیدین کی حدیث اور وہ حدیث جس میں لفظ میں (انضر اللہ امراء اور بھی بہت سی احادیث ہیں۔ لیکن اگر ہم خبر احاد کی تعداد کو دیکھیں تو ان کی نسبت متواتر احادیث بہت کم ہیں۔ متواتر سے متعلق مشہور تصانیف : علما نے تمام متواتر احادیث کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے اور انہیں ایک مستقل تصنیف میں پرو دیا ہے تاکہ طالب و چاہت کرنے والے پر ان کی طرف رجوع آسان ہو ، و جاۓ۔ ان تصانیف میں سے چند ایک یہ ہیں : (1) "الازهار المتناثرة في الاخبار المتواترة" بی امام سیوطی یہ کی تصنیف ہے۔ اس کی ترتیب ابواب پر ہے۔ (ج) "قطف الازهار" یہ بھی امام سیوطی ﷺﷺ کی ہے اور مذکورہ کتاب کی تلخیص (ج) "نظم المتناثر من الحديث المتواتر" یہ محمد بن جعفر کتانی پیشیہ کی تصنیف Ahadith Mutwatir kisko Kahte Hai our Uska Hukum kia hai, Tareef Hadess Mutwatir, sharayat, aqsam, istalahat, pr Kitabi, ہے۔