Hafiz Jan Pashto bayan خضرت سعد Post By Muhammad Dawood
Muhammad dawood
0:00 / 0:00
Hafiz Jan Pashto bayan خضرت سعد Post By Muhammad Dawood
4 640 просмотров · 6 л. назад
Muhammad dawood
1,51 тыс. подписчиков
4 640 просмотров · 6 л. назад
Hafiz Jan Pashto bayan خضرت سعد Post By Muhammad Dawood
حضرت سعد اسود رضی اللہ عنہ نہایت کالی رنگت کے مالک تھے۔انہوں نے اپنی شادی کے لیے مدینہ شریف کے ھر قبیلہ میں پیغام بیھجا،مگر کوئی لڑکی ان کے ساتھ شادی کے لیے راضی نہ ھوئی ،
حضرت سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ھوئے،عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا کالا پن اور بد صورتی مجھے جنت میں داخل ھونے سے روک سکتی ھے،تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد اگر تم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے ھو اور تقوی و پرھیز گاری کا رستہ اختیار کر چکے ھو ،تو ایسا ھر گز نہ ھو گا ،بلکہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ھاں تمھارا بہت بلند مقام ھو گا،تو حضرت سعد اسود رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھ کر اپنا ایمان ثابت کر دیا،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پریشانی کا اظہار بھی کر دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہب علیہ وسلم وہ لوگ جو آپ کی مجلس میں حاضر ھوتے ھیں اور جو حاضر نہیں ھوتے ھر قسم کے لوگوں کے ھاں میں نے اپنی شادی کا پیغام بیھجا ھے،لیکن میری بد صورتی کی وجہ سے مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کے لیے تیار نہیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مدینہ منورہ سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور خوبصورت اور سب سے زیادہ باعزت گھرانے کی لڑکی منتخب کی اور فرمایا کہ اے سعد تم لڑکی کے باپ عمیر بن وھب ثقفی رضی اللہ عنہ کے پاس جاو اور ان کو میرا پیغام سناو کہ ان کی لڑکی کے ساتھ میں نے سعد اسود یعنی تمھارا نکاح کر دیا ھے ،جب حضرت سعد نے نے لڑکی کے والدین کو یہ پیغام سنایا تو انھوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ،اور انھیں واپس کر دیا ، جب لڑکی نے سنا تو اس نے اپنے والدین سے کہا کہ اللہ تعالی کا حکم ھے
"و ما کان لمومن و لامومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیر ۃمن امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا (سورہ احزاب آیت 36 پارہ 22 ::
کسی مومن اور مومنہ کے لیے جب اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی فیصلہ کر دیں تو ان کو اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں رھتا ،اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلا گمراہ ھے،
لھذا میں نے اپنے لیے اس پسند کر لیا ھے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پسند کیا ھے لھذا فورا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاو اور میرا پیغام پیش کرو ،جب لڑکی ماں باپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ھوتے ھیں ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،کہ تم نے میرا بیھجا ھوا بندہ واپس کر دیا، تو انہوں نے شرمندگی کا اظہار کرتے عرض کیا کہ ھمیں شبہ ھوا کہ انہوں نے جھوٹ نہ بولا ھو،ھم آپ کہ تابع ھیں ،ھم ان کو اپنی لڑکی دیتے ھیں ،چنانچہ انھوں نے لڑکی کو حضرت سعد کے حوالے کر دیا ،اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے لیے بازار سے کچھ سامان لینے گئے کہ اسی اثناء میں اعلان جھاد ھو رھا تھا ،انھوں نے اپنی بیوی کے لیے سامان خریدنے کے بجائے اسی پیسہ سے جنگی سامان تلوار ،نیزہ، گھوڑا خرید لیا، اور گھر کے بجائے میدان جنگ کی طرف چل پڑھے ،اور وھاں لڑتے لڑتے شھید ھو گئے۔
رسول اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ سعد اسود شھید ھو گئے آپ نے ان کا سر مبارک اپنی گود میں رکھا اور انکی تلوار اور گھوڑا ان کی بیوی کے پاس بیھجا اور ان کے سسرال والوں کو اک پیغام بیھجا اللہ تعالی نے میرے سعد کو تمھاری بیٹی سے زیادہ خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرادی ھے کیونکہ وہ چہروں کی خوبصورتی کو نہیں تمھارے دلوں کی خوبصورتی کو دیکھتا ھے اور اللہ تعالی نے سعد بہت اعلی مقام عطاء فرمایا ھے۔
بحوالہ اسد الغابہ فی فضائل صحابہ امام اعز الدین ابن الاثیر رحمۃ للہ علیہ