Перейти к содержимому

امیر لوگ کیسے سوچتے ہیں؟ غریب اور امیر دماغ میں اصل فرق

Tariq

0:00 / 0:00

امیر لوگ کیسے سوچتے ہیں؟ غریب اور امیر دماغ میں اصل فرق

36 просмотров · 1 месяц назад
Tariq
832 подписчика
36 просмотров · 1 месяц назад
دیکھو جو ادمی سچ میں امیر ہوتا ہے وہ اپنی امیری کی کہانیاں کبھی نہیں سناتا.وہ چپ چاپ بس اپنے پیسے کو بڑا کرنے میں لگا رہتا ہے جب پیسہ بولنے لگتا ہے نا تو وہ پڑھنا بند کر دیتا ہے اج میں اپ کو پیسے کی فاؤنڈیشن کے بارے میں وہ چیزیں بتانے والا ہوں اللہ کرے کہ اپ کی سمجھ میں اجائے اگر اپ کی سمجھ میں اگئی تو اپ کم از کم کبھی غریب نہیں مرو گے.اگر بہت زیادہ امیر نہیں امبانی اڈانی نہیں بھی بنے تو کم از کم غریب نہیں مرو گے.دیکھیں اپ کے پاس دو طرح کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ جو چپ چاپ اپنے کاروبار میں کام میں لگے رہتے ہیں اپنا پیسہ بڑھانے میں مصروف رہتے ہیں ان کے نہ تو سوشل میڈیا انسٹاگرام کے اوپر ٹک ٹاک کے اوپر کسی قسم کا کوئی چرچے ہوں گے نہ گاڑیاں نہ کوئی سٹیٹس سادہ سا کپڑے بس سادگی میں رہتے ہوں گے.تو بھیا کچھ سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ان کی چار پانچ دکانیں ہیں ان کے دو تین پلازے ہیں ان کے پاس کرپٹو کرنسی ہے سونا چاندی ہے دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ڈیلی انسٹاگرام کے اوپر اپنی پوسٹیں شیئر کرتے ہیں نئے نئے فوٹو نئے نئے کپڑے برینڈڈ چشمہ نیا موبائل نئی گاڑی نئے کر کے فوٹو کہ کیا مزے ایک دم ان کی زندگی میں نظر اتے ہیں کیا زندگی بس یہ ہے اور مہینے کی 25 تاریخ کو اسی دوست سے پانچ ہزار روپے ادھار مانگتے ہوئے ملیں گے جس کو وہ اپنی پوسٹوں میں ٹیگ کر رہے ہوتے ہیں.دونوں کی عمر لگ بھگ ایک جیسی ہے دونوں کی کمائی بھی ایک جیسی ہے لیکن فرق بس یہ ہے کہ ایک نے امیری دکھائی اور دوسرے نے اپنی امیری بڑھائی. اب سوال یہ ہے کہ دنیا کے امیر ادمی اپنا پیسہ دکھاتے کیوں نہیں ہیں کیوں چھپاتے ہیں وہ دوسرے لوگوں سے تو اپ کے ذہن میں بھی خیال اتا ہوگا تو پھر ایسے پیسے کا کیا فائدہ جو لوگوں کو دکھانا ہی نہیں لوگوں کو غریبی دکھانے نہیں اور جو بندہ امیر ہوتا ہے وہ انتہائی سادہ زندگی جی رہا ہوتا ہے اپ کو اج اس بات کا اچھی طرح سے جواب دیتا ہوں اپ یہ ذہن میں رکھ لیں پیسہ جتنا زیادہ خاموش رہتا ہے اتنا زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے.دنیا میں اپ نے کبھی بھی کوئی امیر ادمی دیکھا ہو جو عربوں پتی ہو اربوں ڈالر کا مالک ہو وہ اج بھی نئے نئے روزانہ لگزری گھر نہیں خریدتا وہ بلکہ برسوں پنے اپنے اسی گھر میں رہتے رہتے ہیں.ایک بات یاد رکھنا اگر اپ غیر ضروری چیزیں خریدتے رہو گے تو ایک دن اپ کو اپنے گھر کی ضروری چیزیں بھی بیچنی پڑیں گی. امیر لوگوں کو سٹیٹس نہیں چاہیے ہوتا ان کو سٹیبلٹی چاہیے ہوتی ہے ان کو پیسہ چاہیے ہوتا ہے سکون چاہیے ہوتا ہے. امیر لوگوں کو تالیاں نہیں چاہیے ہوتی ہیں ان کو سکون اور سٹیبلٹی چاہیے ہوتی ہے.کیونکہ دکھاوا کچھ دیر کے لیے چمک دمک دیتی ہے اور میری اپ کو زندگی بھر کا سکون دیتی ہے. اگر اپ اپنے اس پاس کے لوگوں کو دیکھو تو وہ ہر وقت انسٹاگرام کے اوپر ان کی ریل پوسٹ ہو رہی ہے ہر وقت ان کی ا فوٹو ا رہے ہیں ٹک ٹاک ان کی ا رہی ہے ان کی نئی گاڑیاں ارہی ہیں ان کے کبھی نئے فون ا رہے ہیں برانڈڈ کپڑے ا رہے ہیں .کیونکہ وہ امیر دکھنے میں لگے ہوئے ہیں کہ دنیا ہمیں امیر کہے لیکن جب حقیقت میں اپ ان کی زندگی کو اب دیکھتے ہیں تو ان کے گھر کی قسط ہے ان کی گاڑی قسطوں پر ہے ان کا ائی فون قسطوں پر ہے ان کا کریڈٹ کارڈ کے لمبے لمبے بل ہیں جو کبھی بھی اپنے انسٹاگرام یا فیس بک کے اوپر وہ کہیں بھی شیئر نہیں کرتے. انسٹاگرام کے اوپر وہ اپنے اپ کو ایسے دکھائے گا جیسے میں بہت خوش ہوں دنیا کی ساری خوشیاں میرے لیے ہیں لیکن حقیقت میں وہ بہت پریشان ہے اور اندر سے ٹوٹ چکا ہے وہ ہر وقت اس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ ہم کس نے کیسے بھریں اتنی امدنی ہوتی جتنے وہ خرچے کر چکے ہوتے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنا جتنا بڑا دکھاوا اتنا کمزور بینک بیلنس. اپ شادیوں پہ دیکھیں جو لوگ کہتے ہیں کہ نہیں جی ہماری بیٹی کی شادی ہے ہماری بیٹی کی شادی ہے ہم تو تھکا کے کریں گے دکھائیں گے یہ کریں گے وہ کریں گے سب سے زیادہ وہی لوگ قرضے میں ڈوبتے ہیں اپ دیکھیں جس کی جتنی زیادہ مہنگی گاڑی ہے محلے میں اس کی اتنی زیادہ لمبی قسطیں چلتی ہیں.لوگ شاید بھول جاتے ہیں کہ عزت مہنگی گاڑی سے یا مہنگے کپڑوں سے نہیں ملتی عزت اور انسان کو اپنی اوقات سے ملتی ہے.گاڑیاں پرانی ہو جاتی ہیں کپڑے پرانے ہو جاتے ہیں موبائل فون پرانے ہو جاتے ہیں لیکن کام کا ادمی ہمیشہ کام کا ہی رہتا ہے اصلی میری وہ نہیں ہوتی جو دنیا دیکھے اصلی ہے میری وہ ہوتی ہے جو رات کو اپ کو سوتے ہوئے چین سے سکون سے سلائے ایک بات یاد رکھنا جو سب سے زیادہ زور سے چلاتا ہے نا اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا