علم الرسم کا تعارف اور تدوین قرآن کا ارتقاء || Lesson No 1 || القارئ محمد اویس بن الارشد #علم_الرسم
Qari MuhammadOwais القاری علامہ محمداویس بن الارشد
0:00 / 0:00
علم الرسم کا تعارف اور تدوین قرآن کا ارتقاء || Lesson No 1 || القارئ محمد اویس بن الارشد #علم_الرسم
268 просмотров · 3 недели назад
Qari MuhammadOwais القاری علامہ محمداویس بن الارشد
15,2 тыс. подписчиков
268 просмотров · 3 недели назад
علم الرسم (یا علم رسم المصحف) علومِ قرآن کی وہ اہم شاخ ہے جس میں صحابہ کرام کے تیار کردہ عثمانی مصحف کی خاص طرزِ تحریر اور اس کے قواعد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
1. تعریف (Definition)
لغوی معنی: "رسم" کے معنی اثر، نشان، نقش، یا تحریر کے ہیں۔
اصطلاحی تعریف: وہ علم جس کے ذریعے مصاحفِ عثمانی کے ان الفاظ اور حروف کی کیفیت معلوم ہو جو عام املائی و قیاسی قواعد سے مختلف لکھے گئے ہیں۔ اس میں عثمانی کتابت کے خاص قواعد (مثلاً حذف، زیادت، ہمزہ، بدل، وصل و فصل، اور مراعاتِ قرات) پر بحث کی جاتی ہے۔
2. موضوع (Subject Matter)
علم الرسم کا موضوع قرآن مجید کے کلمات اور ان کی تحریری کیفیت ہے۔ یعنی اس میں قرآن کریم کے تمام الفاظ کی کتابت، ان کے حروف کی ساخت اور عثمانی نسخوں کی خصوصی ہیئت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
3. غرض و غایت (Purpose and Aim)
رسمِ عثمانی کی حفاظت: قرآن مجید کے اس اصل رسم الخط کو تحریف اور معروضی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنا جو صحابہ کرام نے باہمی مشورے سے طے کیا تھا۔
متواتر قراتوں کی رعایت: یہ ظاہر کرنا کہ عثمانی رسم الخط کس طرح بغیر نقطوں اور اعراب کے مختلف متواتر و صحیح قراتوں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحریری غلطیوں سے بچاؤ: مصاحف کی نئی طباعت اور نقل کے دوران خطاطوں اور ناشرین کو املائی غلطیوں سے دور رکھنا۔
اتباعِ صحابہ: کاتبینِ وحی اور صحابہ کرام کی اختیار کردہ برکت والی روش پر قائم رہنا۔
4. شرعی حکم (Islamic Ruling)
جمہور کا موقف (وجوب): ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل) اور جمہور علماء و سلف کے نزدیک قرآن مجید کو رسمِ عثمانی ہی کے مطابق لکھنا واجب ہے۔
عدم جوازِ تغییر: عام مروجہ املائی (قیاسی) قواعد کے مطابق قرآن کریم کی کتابت جائز نہیں ہے، کیونکہ عثمانی رسم الخط پر صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا ہے اور امتِ مسلمہ کا عملِ متواتر اسی کی پاسداری پر قائم ہے۔
علم الرسم اور تدوینِ قرآن کا ارتقاء اسلامی تاریخ کا ایک اہم اور منظم علمی باب ہے۔ قرآن کریم کا نزول، اس کی تحریری حفاظت، مصاحف کی یکجائی اور پھر خطاطی و اعراب کے تدریجی مراحل نے اس کے علمی نظام کو پائیدار بنایا۔
1. تدوینِ قرآن کے تاریخی ادوار
عہدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم):
نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں قرآن کریم کا بنیادی انحصار حفظ پر تھا، تاہم ساتھ ساتھ تحریری طور پر بھی مکمل قرآن محفوظ کیا جاتا رہا۔ صحابہ کرام چمڑے، کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں، اور ہڈیوں پر آیات تحریر کرتے تھے۔ کاتبینِ وحی (مثلاً حضرت زید بن ثابت، حضرت ابی بن کعب، حضرت علی رضی اللہ عنہم) کے پاس تمام سورتیں تحریری شکل میں موجود تھیں، مگر وہ ایک جلد (مصحف) میں یکجا نہیں تھیں۔
عہدِ صدیقی (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ):
جنگِ یمامہ (12ھ) میں 70 سے زائد حفاظِ قرآن کی شہادت کے بعد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تدوینِ قرآن کا حکم دیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک علمی کمیٹی نے حفظ اور تحریری نسخوں کے دوہراؤ کے سخت معیار کے بعد تمام سورتوں کو ایک مرتب "مصحف" کی شکل میں یکجا کیا۔
عہدِ عثمانی (حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ):
فتوحات کی وسعت کے بعد مختلف اسلامیہ علاقوں میں قرات کے لہجوں اور تلفظ کا اختلاف ابھرنے لگا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود صدیقی مصحف کی روشنی میں حضرت زید بن ثابت، عبد اللہ بن زبیر، سعید بن العاص، اور عبد الرحمن بن الحارث (رضی اللہ عنہم) پر مشتمل کمیٹی بنائی۔ انہوں نے لغتِ قریش کے مطابق اصل نسخے سے مزید نسخے تیار کیے اور اہم اسلامی مراکز (مکہ، کوفہ، بصرہ، شام) روانہ کیے تاکہ امت ایک متفقہ رسم الخط پر جمع ہو جائے۔
#علم_الرسم #رسم_المصحف #الرسم_العثماني #رسم_عثمانی #خط_عثمانی #علم_الضبط
علومِ قرآن و تدوینِ قرآن
#علوم_القرآن #علوم_قرآن #تدوین_قرآن #تاریخ_القرآن #جمع_القرآن #قراءات #اعجاز_القرآن
عربی اور تحقیقی حلقوں کے لیے
#علم_الرسم_والضبط #رسم_المصاحف #المصحف_الشريف #مخطوطات_قرآنية #قواعد_الرسم #خط_المصحف
انگریزی ہیش ٹیگز (عالمی رسائی کے لیے)
#QuranicSciences #IlmAlRasm #RasmAlMushaf #QuranicStudies #RasmUthmani #QuranicManuscripts #IslamicCalligraphy