Surah Nas | Tafseer e Jalalain | سورۃ الناس کی تفسیر جلالین
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
Surah Nas | Tafseer e Jalalain | سورۃ الناس کی تفسیر جلالین
310 просмотров · 7 дней назад
Allama Mansoor Maturidi
32,6 тыс. подписчиков
310 просмотров · 7 дней назад
114-سُورَةُ النَّاسِ
سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کے درمیان تعلق
سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کے درمیان خصوصی مناسبت ہے۔ دونوں کو ملا کر مُعَوِّذَتَیْن کہا جاتا ہے، یعنی وہ دو سورتیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔
دونوں سورتوں میں مختلف شرور سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے، لیکن دونوں میں شر کی نوعیت الگ ہے
سورۃ الفلق میں زیادہ تر بیرونی اور محسوس شرور سے پناہ مانگی گئی ہے، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کی تاریکی، جادوگروں اور حاسدین کے شر سے۔
جبکہ سورۃ الناس میں باطنی اور غیر محسوس شر سے پناہ مانگی گئی، یعنی وہ وسوسہ جو انسان کے دل اور ذہن میں ڈالا جاتا ہے
دونوں سورتوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سورۃالفلق میں اللہ تعالی کے ایک وصف(صبح کے رب) کے ذریعے پناہ مانگی گئی ہے
جبکہ سورۃ الناس میں اللہ تعالی کے تین اوصاف رَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ اور إِلٰهِ النَّاسِ کے ذریعے پناہ طلب کی گئی ہے، یعنی انسانوں کا رب، انسانوں کا بادشاہ اور انسانوں کا معبود۔
سورۃ الناس میں جس دشمن کا ذکر ہے، یعنی وسوسہ ڈالنے والے جنّی شیاطین اور انسانی شیاطین ۔
یہ دونوں انسان کے دل و دماغ اور عقیدے پر اثر انداز ہوتے ہیں،
جنّی شیاطین کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ ان کے علاوہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺاپنی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی الله عنها کو رات کے وقت ان کے گھر چھوڑنے جارہے تھے، راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ ﷺ نے انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حُیَیْ، ہیں۔ صحابیوں نے عرض کی ، یارسول اللہ ﷺ ! بھلاکیا آپ کے متعلق بھی ہمیں کوئی بدگمانی ہو سکتی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن جان لو کہ شیطان، انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے-
دوسرے شیطان، انسانی شیطان ہوتے ہیں اور یہ انسانوں میں سےہوتے ہیں، یہ لوگوں کو اپنی باتوں اور حرکتوں کے ذریعے بہکاتے ہیں، ورغلاتے ہیں، برے مشورے دیتے ہیں، کبھی لالچ دلاتے ہیں، کبھی خوف دلاتے ہیں ، اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں