Dr. Khursheed Rizvi || Taqreeb || Aik Shaam || Poetry || Literature
CAARWAN کارواں
0:00 / 0:00
Dr. Khursheed Rizvi || Taqreeb || Aik Shaam || Poetry || Literature
146 просмотров · 2 месяца назад
CAARWAN کارواں
2,28 тыс. подписчиков
146 просмотров · 2 месяца назад
ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ ایک شام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاندار ادبی روایات کا تسلسل
۔۔۔۔۔۔۔۔
10 مئی 2026ء، بروز اتوار، سہ پہر تین بجے، جب شہر کی فضا میں مئی کی دھوپ اپنی نرم آنچ کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھی، ادبی تنظیم “کارواں” نے مولانا ظفر علی فاؤنڈیشن کے ہال میں ایک ایسی یادگار ادبی شام کا اہتمام کیا جس نے علم، تہذیب، شاعری اور مکالمے کو ایک ہی محفل میں یکجا کر دیا۔ یہ محفل دراصل ڈاکٹر خورشید رضوی کے نام تھی؛ وہ شخصیت جس کے ہاں علم بھی شعر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور شاعری بھی تہذیبی شعور کی روشنی میں ایک نئی معنویت پا لیتی ہے۔
تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور یہ سعادت محمد عکاشہ نے نہایت خوش الحانی اور وقار کے ساتھ حاصل کی۔ تلاوت کے بعد جب ڈاکٹر خورشید رضوی کو اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی گئی تو حاضرین نے پرتپاک انداز میں ان کا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ اسٹیج پر ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور “کارواں” کے سرپرستِ اعلیٰ غلام حسین ساجد بھی رونق افروز ہوئے۔ محفل کی نظامت نوید صادق نے سنبھالی، اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک ادبی گفتگو اپنے پورے قرینے، شائستگی اور تہذیبی وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہو۔
اس شام کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ ہر مقرر نے ڈاکٹر خورشید رضوی کے فن اور شخصیت کے ایک جداگانہ پہلو کو موضوع بنایا۔ گویا ایک ہی شخصیت کے گرد کئی علمی دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ نوید صادق نے رضوی صاحب کے خاکوں کے مجموعہ “بازدید” پر گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ خورشید رضوی کے ہاں خاکہ نگاری محض شخصی مرقع کشی نہیں بلکہ تہذیبی حافظے کی بازیافت کا عمل ہے۔ اس کے بعد منظر اعجاز نے ان کے مجموعۂ مضامین “اطراف” پر اظہارِ خیال کیا اور ان مضامین کی فکری وسعت، زبان کی شگفتگی اور تہذیبی شعور کو سراہا۔
آفتاب جاوید نے نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ ڈاکٹر خورشید رضوی پر گیان پیش کیا اور بعدازاں انھیں ایک یادگاری فریم بھی پیش کیا، جس نے محفل میں ایک خوشگوار جذباتی رنگ بھر دیا۔ ڈاکٹر شاہد اشرف نے رضوی صاحب کے نعتیہ مجموعہ “نسبتیں” پر مدلل اور پُرمغز گفتگو کی، جب کہ ڈاکٹر افتخارالحق نے “عربی ادب قبل از اسلام” پر اپنا عالمانہ مقالہ پیش کرتے ہوئے مصنف کی تحقیقی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
شاہین عباس نے ڈاکٹر خورشید رضوی کی شاعری پر ایک نہایت وقیع، دل آویز اور فکری جہات سے بھرپور مقالہ پیش کیا، جس میں اُن کے شعری آہنگ، تہذیبی شعور، کلاسیکی روایت سے وابستگی اور جدید حسیت کے امتزاج کو نہایت باریک بینی سے اُجاگر کیا گیا۔ ان کی گفتگو میں علمی وقار بھی تھا اور شعری جمالیات کا وہ لطف بھی، جس نے حاضرین کو دیر تک اپنی گرفت میں لیے رکھا۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے مجموعۂ مضامین “آمیزہ” پر گفتگو کی اور اس کی فکری تہہ داریوں کو وا کیا، جب کہ غلام حسین ساجد نے ڈاکٹر خورشید رضوی کے تازہ شعری مجموعے “نیم وا” پر ایک نہایت بصیرت افروز اور عصری شعور سے مملو مقالہ پیش کیا، جس میں اُنھوں نے اس مجموعے کی شعری لطافت، فکری تہہ داری اور لفظیات کی داخلی موسیقیت کو نہایت دل نشیں انداز میں وا کیا۔ ان کی گفتگو یوں محسوس ہوتی تھی جیسے وہ “نیم وا” کے اشعار کے دریچوں سے قاری کو معنی کی ایک اور دنیا میں لے جا رہے ہوں۔
آخر میں ڈاکٹر سعادت سعید نے ڈاکٹر خورشید رضوی کی نظموں پر ایک بھرپور اور فکر انگیز مضمون پیش کیا، جس نے محفل کو ایک گہری ادبی سنجیدگی عطا کی۔
تقریب کا دوسرا سیشن اپنی نوعیت میں نہایت دل کش ثابت ہوا۔ حاضرین نے ڈاکٹر خورشید رضوی سے مختلف علمی، ادبی اور فکری سوالات کیے اور انھوں نے اپنے مخصوص شائستہ، مدلل اور شگفتہ انداز میں ان کے جواب دیے۔ یہ مکالمہ محض سوال و جواب نہ تھا بلکہ علم و ادب کی ایک زندہ روایت کا منظر پیش کر رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک استاد اپنے سامعین کے درمیان بیٹھا، لفظ اور معنی کے چراغ روشن کر رہا ہو۔
تقریب کے آخری مرحلے، یعنی “کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر” میں ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنی تازہ غزلیں پیش کیں۔ ان کی شاعری سنتے ہوئے حاضرین پر ایک خاص کیف طاری ہو گیا۔ ہر شعر کے بعد داد و تحسین کی آوازیں بلند ہوتیں اور پھر “مزید، مزید” کی صدائیں ہال میں گونجنے لگتیں۔ حاضرین کی فرمائش پر انھوں نے اپنی بعض مقبول غزلیں بھی سنائیں، اور یوں یہ شام محض ایک تقریب نہیں رہی بلکہ شعر، تہذیب اور محبتِ ادب کا ایک زندہ اور روشن استعارہ بن گئی۔
اہلِ شعر و ادب کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ محفل دراصل اُن لوگوں کا اجتماع ہے جو لفظ کی حرمت، تہذیب کی روشنی اور علم کی وقعت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس شام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ ڈاکٹر خورشید رضوی جیسی شخصیات صرف شعر نہیں کہتیں۔۔۔ تہذیبی شعور کی ایک پوری روایت کو زندہ رکھتی ہیں۔
۔۔۔۔
اگر آپ اردو ادب، شاعری، ادبی تقریبات اور نامور ادیبوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو اس ویڈیو کو Like، Share اور Subscribe ضرور کریں۔
#DrKhurshidRizvi #KhurshidRizvi #UrduLiterature #UrduAdab #UrduPoetry #UrduShayari #LiteraryEvent #AdabiTaqreeb #Caarwan #Karwan #PakistaniLiterature #PoetryRecitation #VoiceOfNaveedSadiq #GhulamHussainSajid #SaadatSaeed