Перейти к содержимому

IKHTILAF AL-MUFASSIRIN | أسباب اختلاف المفسّرين/ مفسرین کے اختلافات

Mufti Dr. Shad Muhammad 📖

0:00 / 0:00

IKHTILAF AL-MUFASSIRIN | أسباب اختلاف المفسّرين/ مفسرین کے اختلافات

1 086 просмотров · 5 л. назад
Mufti Dr. Shad Muhammad 📖
12 тыс. подписчиков
1 086 просмотров · 5 л. назад
تفسیری اختلافات: حقیقت، اہم کتب، اسباب: =========÷•÷========= گزشتہ شب ادارہ "مرکز الحریم" کی طالبات کو (تفسیری اختلافات) پر ایک مختصر سا لیکچر دیا۔ اس کی آڈیو کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔ اس لیکچر کے بنیادی عنوانات یہ ہیں: • تمہیدی باتیں •• موضوع کی مستقل کتابیں: 1۔اختلاف المفسرین: اسبابہ وآثارہ۔ مقالہ پی ایچ ڈی۔ ڈاکٹرسعود بن عبد اللہ 2۔الخلاف بین المفسرین: مظاہرہ واسبابہ۔ ڈاکٹر احمد سعد الخطیب 3۔الاختلاف فی التفسیر: حقیقتہ واسبابہ۔ وسیم فتح اللہ 4۔اسباب اختلاف المفسرین۔ محمد بن عبد الرحمن الشائع 5۔اختلاف السلف فی التفسیر: بین التنظیر والتطبیق۔ محمد صالح،محمد سلیمان 6۔اختلاف المفسرین: دراسۃ تحلیلیۃ نقدیۃ،پی ایچ ڈی۔ عادل مقرنی ••• اختلاف کی اقسام: 1۔اختلاف تنوع/ تعبیر/منہج: فقط الفاظ مختلف ہوں،معنی ومفہوم ایک ہو۔ 2۔اختلاف التضاد مع امکان الجمع 3۔اختلاف التضاد مع عدم امکان الجمع 4۔اختلاف فی المقصود (معنی مرادی میں اختلاف ہو، جس سے آیت کے معنی ومراد پر اثر پڑے۔) 5۔اختلاف فی غیر المقصود (جیسے اصحاب طالوت کی تعداد میں اختلاف، اصحابِ کہف کے ناموں میں اختلاف وغیرہ) البتہ اگر محل الگ الگ ہو یا اختلاف قراءت کی وجہ سے اختلاف ہو تو یہ حقیقت میں اختلاف نہیں ہے، کیونکہ ایک لفظ میں اختلاف نہ ہوا، متعدد لفظ ہوگئے۔ اگر مفسر نے سابقہ رائے سے رجوع کرلیا تو بھی اس رائے کو اختلاف میں شمار نہ کیا جائے۔ یا مفسر کی طرف غلط اقوال کی نسبت کی گئی ہو۔ •••• اختلاف کے تین مقتضیات: 1۔قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے، لہذا عربی زبان کے قواعد کے مطابق ہی اسے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ قرآنی نصوص پر وہ تمام اصول لاگو ہوں جو عربی عبارات پر لاگو ہوتی ہیں۔ عربی ایک وسیع الفاظ ومعانی والی زبان ہیں، اس میں خاص لفظ،عام لفظ،مشترک لفظ اور مختلف اسلایب وغیرہ ہوتے ہیں۔اس لیے اس کے سمجھنے میں ضرور اختلاف ہوسکتا ہے، جیسے دیگر عربی عبارات میں ہوسکتا ہے۔ جیسے قرآنی آیت ہے: (معیشۃ ضنکا) اس میں بعض مفسرین نے ”معیشۃ “کو مصدر قراردیا اور بعض نے ظرف مکان،اس لیے اس کے معنی میں بھی اختلاف ہوگیا۔ 2۔قرآن ایک معجزہ ہے۔ 3۔قرآن پورے عالم اور ہر زمانہ کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے۔ قرآن معجزہ ہے اور پورے عالم کے لیے ہدایت ہے،اس کا بھی تقاضا ہے کہ قرآنی نصوص میں کثیر معانی پنہاں ہوں،تاکہ ہر زمانہ اور ہر علاقہ کے لوگوں کی راہنمائی کرےاور ہر زمانہ میں قرآن پر عمل ہوسکے۔ ••••• اسباب: 1۔متنِ قرآن سے متعلق اسباب اشتراک، حقیقت مجاز، حروف کے معانی، مطلق ومقید، ضمیر کا مرجع، اعراب، استثناء، تقدیر وحذف، مجمل، قراءت، اشتقاق اللفظ، لغویین کا اختلاف، کلمہ زائدہ کا احتمال۔ نسخ واحکام میں اختلاف۔ وغیرہ 2۔آیت کے نزول کے موقع ومحل، یا سبب نزول میں اختلاف 3۔مفسر کے نظریات واعتقادات یعنی ہر مفسر کے تفسیری مصادر، خاص عقائد ونظریات، عصری رجحانات، اور اس کا خاص اسلوب ومنہج۔ ان چیزوں سے بھی اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ 4۔حدیث سے متعلق 1۔کسی مفسر کو حدیث پہنچی تو کسی کو نہ پہنچ سکی۔ 2۔روایت کی سند کے پرکھنے کے معیارات میں اختلاف 3۔روایت کی متن کے پرکھنے کے معیارات میں اختلاف 4۔ قبول وعدم قبول حدیث میں اختلاف •••••• اختلافی آراء کو کیسے پیش کریں؟ 1۔آیت کے لفظ یا معنی یا سبب نزول وغیرہ میں محل خلاف کی تعیین کریں۔ 2۔محل خلاف سے متعلق تمام مفسرین کے اقوال کو جمع کریں۔ 3۔سبب اختلاف کی تعیین کریں، خواہ ایک ہو یا زیادہ۔ 4۔اختلاف کی نوعیت کی وضاحت کریں۔ 5۔اختلاف تنوع کی مکمل وضاحت کہ کیسے نتیجہ ایک نکلتا ہے۔ 6۔جمع وتطبیق کی مکمل کوشش، ورنہ ترجیح مع سبب ترجیح،صحیح سبب نزول کو لینا، سیاق کی رعایت، رائے کے بجائے نقلی لینا وغیرہ۔ 5۔جس لفظ میں سلف نے اجتہاد کرکے جو دو یا تین معانی بتادیے،اس دائرہ سے نکلنے سے پرہیز کریں۔ واللہ اعلم بالصواب م۔شادمحمد شاد الحسان اکیڈمی +923443884654