Перейти к содержимому

Alwidai Kalam of Madrasah Rahmaniyah Surat

Umar Mufti Kaleem

0:00 / 0:00

Alwidai Kalam of Madrasah Rahmaniyah Surat

3 868 просмотров · 2 года назад
Umar Mufti Kaleem
2,9 тыс. подписчиков
3 868 просмотров · 2 года назад
Jazakallahu khaira Kalam : Rahmaniya ke Lamhe Reciter : Umar ibne Mufti Kaleem sb Writer : Fatima binte Shahid Correction : Abu Jafar Audio-Video : UMK Studio Production : Umar Mufti Kaleem Lyrics : In Urdu گلِستانِ علومِ دیں سے کیسے دور جائیں گے ہمیں رحمانیہ میں گزرے لمحے یاد آئیں گے ہماری ہر خوشی کی ابتدا رحمانیہ تجھ سے جو سیکھی ہم نے ہے خوئے وفا رحمانیہ تجھ سے ترے دامن میں ہی آکر ملی ہے عزت ورفعت ہمارا بھی مقدر جاگ اٹھا رحمانیہ تجھ سے ترے احسان کا یہ قرض ہم کیسے چکائیں گے چمن میں ترے کتنے ہی حسین لمحے گزارے ہیں ہمارے دل ترے آنگن نے پالے ہیں سنوارے ہیں غرورِ نفس کے آتش کو تو نے ہی بجھایا ہے ترے ہی فیض سے ہم بن گئے حق کے منارے ہیں تری فرقت کا آخر بوجھ ہم کیسےاٹھائیں گے لبادہ حق کا پہنا کر نشانِ حق بنایا ہے سلیقہ زندگی کا اپنے استاذوں سے پایا ہے ہمارے واسطے اپنی خوشی کا گُل لٹایا ہے کٹھن رستے کا ہر کانٹا محبت سے ہٹایا ہے یہ محنت آپ کی ہم سب کبھی نا بھول پائیں گے رفیق اس مے کدے کے ساقیِ علمِ نبوت ہیں جنابِ حضرتِ عبید تاج و فخرِ ملت ہیں یہ وہ دریا ہے جس کا قطرہ بھی نایاب موتی ہے بجھاتے پیاس اپنی تشنگانِ جامِ وحدت ہیں ترے انمول موتی لمحہ لمحہ یاد آئیں گے سلام اس بزم میں موجود فن کے کوہ ساروں کو عتیق و یاسین و زبیر اور فن کے ستاروں کو ابوبکر اور سلماں طاہر و اسعد ہو یا داؤد سلام عمار اور منان اور صفوان پیاروں کو جدائی کے یہ لمحے عمر بھر ہمکو ستائیں گے جدائی کا عمر یہ غم ہمیں سہنا پڑے گا اب کہ اپنے ہم خیالوں کے بنا رہنا پڑے گا اب اے ہم دم درگزر کردو دکھایا دل اگر ہم نے یہی اک رسم باقی ہے یہی کہنا پڑے گا اب گلےمل کر ہی رولوں اب نہ جانے ہم کب آئیں گے #alwida #alvida #madrasah #madresa #surat