Vo Khaak Ke Zarron Mein Aflaak Dekhta Tha | Allama Iqbal وہ در ذراتِ خاک، افلاک را میدید
Abu Anas Studio official
0:00 / 0:00
Vo Khaak Ke Zarron Mein Aflaak Dekhta Tha | Allama Iqbal وہ در ذراتِ خاک، افلاک را میدید
39 просмотров · 6 ч назад
Abu Anas Studio official
1,93 тыс. подписчиков
39 просмотров · 6 ч назад
A powerful and soulful Urdu nasheed inspired by the vision, philosophy, and timeless message of Allama Muhammad Iqbal (رحمہ اللہ).
He saw greatness in ordinary people, hope in hopeless hearts, and endless possibilities in the smallest things. His message of Khudi, self-respect, courage, faith, and action continues to inspire generations.
This nasheed is a tribute to the Poet of the East and his extraordinary vision for the Muslim Ummah.
فارسی
وہ در ذراتِ خاک، افلاک را میدید!
در قطرۀ شبنم، دریا را میدید!
علامه محمد اقبال، شاعرِ مشرق، با اندیشههای بلند و پیامِ خودی، ایمان، عشق و بیداری، نسلها را به سوی عظمت و سربلندی دعوت کرد.
اردو
علامہ محمد اقبالؒ وہ عظیم مفکر اور شاعر تھے جنہوں نے خاک کے ذروں میں افلاک، شبنم کے قطروں میں سمندر اور مایوس نگاہوں میں امید دیکھی۔
ان کا پیغام خودی، عشقِ رسول ﷺ، ایمان، عمل، بلند پروازی اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا پیغام ہے۔
یہ ناشید شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کی فکر و فلسفے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
NASHEED LYRICS
[تمہید]
وہ خاک کے ذروں میں افلاک دیکھتا تھا!
وہ قطرۂ شبنم میں سمندر دیکھتا تھا!
جو آنکھوں سے اوجھل تھا، وہ راز دیکھتا تھا!
وہ قوموں کی تقدیر کا آغاز دیکھتا تھا!
وہ وقت کی پیشانی پہ تحریر دیکھتا تھا!
وہ سوئی ہوئی ملت کی تقدیر دیکھتا تھا!
اندھیروں کی چادر میں انوار دیکھتا تھا!
وہ ٹوٹے ہوئے دل میں بھی کردار دیکھتا تھا!
[کورس]
وہ اقبال تھا! وہ اقبال تھا!
وہ امت کے سینے کا اک سوال تھا!
وہ بیدار ضمیروں کی للکار تھا!
وہ خودی کا امیں، عشق کا ترجمان تھا!
وہ اقبال تھا! وہ اقبال تھا!
جو خوابوں سے آگے کا اک خیال تھا!
[بند 1]
وہ مٹی کے پیکر میں جوہر دیکھتا تھا!
وہ انسان کے باطن میں محشر دیکھتا تھا!
وہ خودی کے چراغوں میں خورشید دیکھتا تھا!
وہ مایوس نگاہوں میں امید دیکھتا تھا!
نہ دولت کی چاہت، نہ شہرت کا سودا!
نہ تختوں کی خواہش، نہ دنیا کا دھوکا!
وہ انسان کو اُس کی حقیقت بتاتا!
وہ گرتے ہوئے حوصلوں کو اٹھاتا!
[بند 2]
وہ مسجد کے مینار سے آگے دیکھتا تھا!
وہ سجدوں میں پوشیدہ کردار دیکھتا تھا!
وہ امت کے زخموں میں اک درد دیکھتا تھا!
وہ بکھرے ہوئے دل میں اک فرد دیکھتا تھا!
وہ بغداد کے غم کو بھی اپنا سمجھتا!
وہ قرطبہ کی خاک کو زندہ سمجھتا!
وہ ماضی کے ملبے پہ روتا نہیں تھا!
وہ مستقبل کے خواب کھوتا نہیں تھا!
[بند 3]
وہ شاہین کی آنکھوں میں پرواز دیکھتا تھا!
وہ طوفان کی لہروں میں انداز دیکھتا تھا!
وہ صحرا کی خاموشی میں للکار دیکھتا تھا!
وہ نوجوانوں میں قوم کا وقار دیکھتا تھا!
[بند 4]
وہ عشقِ محمد ﷺ کو معراج سمجھتا!
وہ نسبتِ احمد ﷺ کو اک تاج سمجھتا!
وہ قرآن کی آیت میں انوار دیکھتا تھا!
وہ سنت کی راہوں میں کردار دیکھتا تھا!
[بند 5]
وہ کل کے اندھیروں میں اک آج دیکھتا تھا!
وہ بے تاج جوانوں میں بھی تاج دیکھتا تھا!
وہ ٹوٹے ہوئے خواب میں تعبیر دیکھتا تھا!
وہ محکوم نگاہوں میں تقدیر دیکھتا تھا!
[اختتام]
وہ خاک کے ذروں میں افلاک دیکھتا تھا…
وہ قطرۂ شبنم میں سمندر دیکھتا تھا…
وہ مر کر بھی افکار میں زندہ رہا ہے!
وہ ہر عہد کے شاہیں سے کہتا رہا ہے!
خودی کو جگا… اپنی پہچان بنا…
تو اقبال کے خوابوں کا عنوان بنا…
Subscribe & Support
If this nasheed inspires you, please Like, Share, Comment, and Subscribe to our channel for more beautiful Urdu and Islamic nasheeds.
#AllamaIqbal #IqbalPoetry #WohKhaakKeZarronMein #UrduNasheed #IqbalNasheed #Khudi #IqbalDay #PoetOfTheEast #FarsiPoetry #اقبال #علامہ_اقبال #خودی