Перейти к содержимому

Jamal Ehsani recites misc. verses in Jashn e John Elia - وہ لوگ ہو گئے تیار گھر بدلنے تک

Khursheed Abdullah

0:00 / 0:00

Jamal Ehsani recites misc. verses in Jashn e John Elia - وہ لوگ ہو گئے تیار گھر بدلنے تک

2 237 просмотров · 4 года назад
Khursheed Abdullah
72,3 тыс. подписчиков
2 237 просмотров · 4 года назад
جمال احسانی نہ سوچتے تھے جو دیوار و دَر بدلنے تک وہ لوگ ہو گئے تیار گھر بدلنے تک کمال اُس نے کیا اور میں نے حد کر دی کہ خود بدل گیا اس کی نظر بدلنے تک میں نے اُس شخص کی یاری کو ضروری جانا اُس نے بس وقت گُزاری کو ضروری جانا مر رہا تھا مرا دشمن کہ اُسی دم نے آخری ضربتِ کاری کو ضروری جانا وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں وہ رنگ اُتر ہی گئے جو اُترنے والے تھے یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے نہ اجنبی ہے کوئی اور نہ آشنا کوئی اکیلے پن کی بھی ہوتی ہے انتہا کوئی مرے پڑوس میں گُزرا ہے سانحہ کوئی وگرنہ صحن میں پتّھر تو پھینکتا کوئی سلوکِ ناروا کا اس لیے شکوہ نہیں کرتا کہ میں بھی تو کسی کی بات کی پرواہ نہیں کرتا تیرا اصرار سر آنکھوں پہ تجھ کو بھول جانے کی میں کوشش کر کے دیکھوں گا مگر وعدہ نہیں کرتا