حضرت عائشہ کی شادی کے وقت عمر 17 سے 19 سال تھی — دلائل Description میں — مفتی منیر شاکر 🔥
Mukhtiar Ahmed
0:00 / 0:00
حضرت عائشہ کی شادی کے وقت عمر 17 سے 19 سال تھی — دلائل Description میں — مفتی منیر شاکر 🔥
4 195 просмотров · 3 месяца назад
Mukhtiar Ahmed
76 подписчиков
4 195 просмотров · 3 месяца назад
9 سال والی روایت خود بخاری کی اپنی احادیث سے ٹکراتی ہے۔ پہلے یہ سمجھو کہ اگر رخصتی 2 ہجری میں 9 سال کی عمر میں ہوئی تو پیدائش 4 نبوی میں ہوئی۔ یعنی 5 نبوی میں عائشہ صرف 1 سال کی تھیں۔ اب دیکھو یہ 1 سال کی عمر کتنے تضادات پیدا کرتی ہے۔
'بخاری روایت نمبر 3905 - ہجرت حبشہ'
عائشہ فرماتی ہیں کہ ہوش سنبھالنے کے بعد والد کو ہجرت حبشہ کے لیے جاتے دیکھا۔ ہجرت حبشہ 5 نبوی میں ہوئی۔ کیا 1 سال کی بچی ہوش سنبھال کر واقعات یاد رکھ سکتی ہے؟
'بخاری 4993 - جاریہ کا لفظ اور آیت کا یاد ہونا'
5 نبوی میں سورہ القمر کی آیت نازل ہوئی۔ عائشہ نے کہا اس وقت میں جاریہ تھی اور مجھے یہ آیت یاد ہوگئی:
اقتربت الساعة وانشق القمر
ترجمہ: قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔ سورہ القمر آیت 1
عربی میں جاریہ 7 سے 10 سال کی لڑکی کو کہتے ہیں اور شیر خوار کو صبیہ کہتے ہیں۔ کیا 1 سال کی بچی یہ آیت سمجھ کر یاد رکھ سکتی ہے اور کیا 1 سال کی بچی جاریہ ہو سکتی ہے؟
'مسند احمد 26288 - جبیر کی منگنی'
5 نبوی سے پہلے عائشہ کی منگنی جبیر بن مطعم سے طے تھی۔ جبیر کی ماں نے کہا ہمیں ڈر ہے یہ لڑکی ہمارے بیٹے کو مسلمان کر دے گی۔ 9 سال والی روایت کے مطابق عائشہ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں تو منگنی کیسے ہوئی؟
'بخاری 5654 - عیادت اور اشعار'
1 ہجری میں عائشہ نے بیمار صحابہ کی عیادت کی اور مشکل اشعار لفظ بہ لفظ یاد کیے۔ 9 سال والی روایت کے مطابق اس وقت 8 سال کی تھیں۔ پردے کا حکم 5 ہجری میں آیا تو والدہ کا نہ جانا اور 8 سال کی بچی کا وبائی ماحول میں اکیلے جانا عقل کے خلاف ہے۔
9 سال والی روایت کا راوی ہشام بن عروہ ہے جس نے یہ بات بڑھاپے میں 70 سال سے اوپر کی عمر میں عراق میں بیان کی جہاں حافظہ کمزور ہو چکا تھا۔ جو روایات میں نے تحریر کی ان میں ان کے والد عروہ بن زبیر جو حضرت عائشہ کے براہ راست شاگرد اور بھانجے بھی تھے ان کی روایات بیٹے کے وہم پر مقدم ہیں۔ موطا امام مالک جو بخاری سے ایک صدی پہلے لکھی گئی اس میں یہ روایت ایک بار بھی نقل نہیں ہوئی کیونکہ امام مالک اسی ہشام بن عروہ کے مدینے میں شاگرد تھے اور ہشام 70 سال کی عمر کے بعد عراق چلے گئے جہاں ان کا حافظہ کمزور ہو گیا تھا۔
بخاری کی اپنی روایات ثابت کرتی ہیں کہ 5 نبوی میں عائشہ ہوش مند، جاریہ اور منگنی شدہ تھیں جو 9 سال والی روایت میں ناممکن ہے۔ رخصتی کے وقت آپ کی عمر 17، 18 یا 19 سال تھی۔
اگر کسی کے پاس بخاری کی بک نہ ہو تو بخاری گوگل پر بھی اپلوڈ ہے وہاں کتاب نام اور حدیث نمبر لکھ کر دیکھ سکتے ہیں۔