Перейти к содержимому

BHOPAL TAAL KE NAAM by Zia Farooqui

khushi na gami

0:00 / 0:00

BHOPAL TAAL KE NAAM by Zia Farooqui

3 просмотра · 2 дня назад
khushi na gami
88 подписчиков
3 просмотра · 2 дня назад
BHOPAL TAAL KE NAAM by Zia Farooqui اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں تیرے اس شفاف پانی میں یہ کیا تاثیر ہے کیوں ٹھہر جاتا ہے رہرو دیکھ کر تیرا جمال کیوں پکڑ لیتے ہیں قدموں کو ترے یہ سبزہ زار آب لرزیدہ میں تیرے کیا لکھا ہے یہ بتا جس کا اک اک حرف پڑھنے میں گزر جاتی ہے عمر پھر بھی کھلتا ہی نہیں ہے راز تیرے حسن کا پھر بھی جاتا ہی نہیں ہے تیرا یہ آبی طلسم اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں کتنی صدیوں کی تمازت تیرے اس پانی میں ہے کتنے موسم کروٹیں لیتے ہیں لہروں میں تری کتنی تہذیبوں کے ضامن ہیں ترے یہ مرغزار اے بڑے تالاب کچھ تو ہی بتا کیا رمز ہے کیوں تجھے گھیرے ہوئے ہیں یہ پہاڑی سلسلے کیوں سجا رکھے ہیں تو نے ہر طرف یہ سبزہ زار کس لئے ہوتی ہے خلقت تیری وسعت پر نثار تو نہ جیجوں ہے نہ ہے دریائے ٹیمز پھر بھی ساحل پر ترے قرباں ہے حسن بے کراں پھر بھی سینے پر ترے رقصاں ہیں کتنی کشتیاں پھر بھی کیف زندگی ہے تیری موجوں سے عیاں اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں تجھ کو کچھ معلوم بھی ہے اپنی تاریخ حسیں کتنی تہذیبوں کا شاہد ہے ترا آب رواں کتنے جذبوں کی طہارت تیری ان لہروں میں ہے کتنے موسم ہو گئے شاداب آنچل سے ترے قافلے کتنے ترے دامن میں آ کر بس گئے کیسے کیسے گوہر نایاب تیرے عشق میں ہو کے بے قیمت تری آغوش میں گم ہو گئے آج ان کا نام لیوا بھی یہاں کوئی نہیں اے بڑے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں تیرے پہلو میں ہیں خوابیدہ وہ اہل عشق بھی جن کے تیشے نے تھے کاٹے جہل کے کوہ گراں جن کی ہمت نے بسائی تھیں یہاں پر بستیاں بستیوں میں پیار کے چشمے ہی تھے ہر سو رواں جن پہ قابض ہیں مگر اب وقت کی سفاکیاں وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد تو بھی ہے وقت کی سفاکیوں کا ایک شاہد میں بھی ہوں پھر بھی اے تالاب اے آبی ذخیرے کے امیں یوں تو تیرا یہ جواں پیکر بظاہر تال ہے درحقیقت تو وقار و عظمت بھوپال ہے #bhopaltaal#bhopallake#ziafarrooui#urdu