Tabyeen ul Kitab | Dars 7 | Surah Al-Fatihah | Syed Jawad Naqvi
Life Programming
0:00 / 0:00
Tabyeen ul Kitab | Dars 7 | Surah Al-Fatihah | Syed Jawad Naqvi
165 просмотров · 17 ч назад
Life Programming
2,52 тыс. подписчиков
165 просмотров · 17 ч назад
اس درس میں سورۂ فاتحہ کی آیت «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی تفصیلی تفسیر و تبیین پیش کی گئی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ الحمدللہ رب العالمین ہدایت کے منشور کا حصہ ہے اور انسان کو اس الٰہ کی حمد بجا لانے کی تعلیم دیتی ہے جو تمام عالمین کا رب اور حاکم و فرمانروا ہے۔ چونکہ انسان بھی عالمین میں شامل ہے، اس لیے اس آیت کا مخاطب بھی انسان ہے۔
درس میں لفظ حمد کے معنی، حمد اور تعریف، ثناء، شکر اور مدح کے باہمی فرق اور حمد کے حقیقی مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔ حمد اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی موجود میں موجود حسن، کمال اور خوبی کو مشاہدہ اور ادراک کے ذریعے پہچان کر اس کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے حقائق کو پہچاننے اور کمالات کو درک کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے، جبکہ ظاہری حواس کے ساتھ باطنی حواس بھی انسان کو محبت، نفرت، حسن اور خیر جیسے حقائق کے فہم میں مدد دیتے ہیں۔
اس درس میں کائنات کو انسان کے لیے معرفت کی کتاب قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ زمین، آسمان، درخت، پودے، جانور، کھیت، دریا اور دیگر موجودات انسان سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انسان اگر غور و مشاہدہ کرے تو ان موجودات میں اللہ تعالیٰ کی رکھی ہوئی خصوصیات، حسن اور کمالات کو پہچان سکتا ہے۔ قرآن انسان کو محض اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کے حقائق اور کمالات کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
درس کا ایک اہم موضوع خیر اور شر کا تصور بھی ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شر پیدا نہیں کیا؛ موجودات میں یا تو خیرِ نفسی پایا جاتا ہے یا خیرِ نسبی۔ انسان اپنی عقل، شعور اور ادراک کے ذریعے موجودات میں موجود خیر، حسن اور کمال کو دریافت کر سکتا ہے۔ اسی مشاہدے سے تحسین کا احساس پیدا ہوتا ہے اور حسن و کمال کی توصیف حمد کی صورت اختیار کرتی ہے۔
مزید وضاحت کی گئی ہے کہ کمال دو طرح کے ہوتے ہیں: اختیاری اور غیر اختیاری۔ جو خوبی انسان اپنی کوشش، ارادے اور عمل سے حاصل کرے، اس کی تحسین حمد کہلاتی ہے، جبکہ رنگ، جسمانی ساخت اور وہ خصوصیات جو انسان کے اختیار میں نہیں، ان کی تعریف مدح کے مفہوم میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف حمد ہے، کیونکہ کائنات میں موجود تمام حسن و کمال اس کے ارادے اور فعل کا نتیجہ ہے۔
آخر میں الحمدللہ کو انسانی ہدایت کے ایک بنیادی اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انسان کائنات میں موجود حسن و کمال کو دیکھتا ہے، لیکن اس کمال کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔ انسانی گمراہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اللہ کے نظام میں موجود کمالات کا کریڈٹ طبعی عوامل یا دوسرے اسباب کو دے دیتا ہے۔ الحمدللہ انسان کو اس نسبت کی درستگی سکھاتا ہے تاکہ وہ کائنات کے حقائق اور کمالات کو دیکھتے ہوئے ان کے حقیقی منبع، یعنی اللہ تعالیٰ، کو پہچانے۔