TAJ MAHAL: FAMOUS POEM OF SAHIR LUDHIANVI NAZAM TAJ MAHAL نظم تاج محل ساحر لدھیانوی #urdupoetry
The Urdu Listener's
0:00 / 0:00
TAJ MAHAL: FAMOUS POEM OF SAHIR LUDHIANVI NAZAM TAJ MAHAL نظم تاج محل ساحر لدھیانوی #urdupoetry
157 просмотров · 7 месяцев назад
The Urdu Listener's
1,55 тыс. подписчиков
157 просмотров · 7 месяцев назад
TAJ MAHAL: ALL TIME FAMOUS POEM OF SAHIR LUDHIANVI
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
تازہ بیان البیلا شاعر
’’ساحر نے ہیئت کے بجائے معنی اور موضوع اور سب سے زیادہ اندازِ بیان میں اجتہاد کیا ہے۔ اس کی شاعری کی بنیاد شدّت احساس پر ہے اور میرے خیال میں اُس کے اسلوب کا حسن بھی شدید احساس سے ہی عبار ت ہے، ساتھ ہی اسے ابہام سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ احمد ندیم قاسمی
ساحرلدھیانہ کے اک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921ء کو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا اور وہ انکی گیارھویں، لیکن خفیہ، بیوی سردار بیگم سے ان کی پہلی اولاد تھے۔ ساحر کی پیدائش کے بعد ان کی ماں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ کو باقاعدہ شکل دی جائے تاکہ آگے چل کر وراثت کا کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو۔ چودھری صاحب اس کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سردار بیگم ساحر کو لے کر شوہر سے الگ ہو گئیں۔ اس کے بعد ساحر کی تحویل کے لئے فریقین میں مدّت تک مقدمہ بازی ہوئ۔ ساحر کی پرورش ان کے نانہال میں ہوئی۔ جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا۔ یہیں سے انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔ 1939 میں اسی اسکول سے انٹرنس پاس کرنے کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کی۔ بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوئے اور کالج سے نکالے گئے۔ وہ کالج سے بی اے نہیں کر سکے لیکن اس کی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں" 1944 میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ کالج چھوڑنے ے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا۔ وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف "کے ایڈیٹر بن گئے۔ بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔ اسی زمانہ میں ان کے کالج کے اک دوست آزادی کی تحریک پر ایک فلم "آزادی کی راہ پر" بنا رہے تھے۔ انھوں نے ساحر کو اس کے گیت لکھنے کی دعوت دی اور ساحر بمبئی چلے آئے۔ یہ فلم نہیں چلی۔ ساحر کو بطور گیت کار فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑے اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ عامیانہ گیت لکھنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ آخر اک دوست کے توسط سے ان کی ملاقات ایس ڈی برمن سے ہوئی جن کو اپنے مزاج کے کسی گیت کار کی ضرورت تھی۔ برمن نے ان کو اپنی ایک دھن سنائی اور ساحر نے فوراً اس پر" ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں" کے بول لکھ دئے۔ برمن پھڑک اٹھے۔ اس کے بعد وہ ایس ڈی برمن کی دھنوں پر باقاعدگی سے گیت لکھنے لگے اور اس جوڑی نے کئی یادگار گانے دئے۔
ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔ انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔ انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے۔ ساحر کی شاعری، بالخصوص نظموں میں،ان کے ذاتی تجربات و مشاہدات کا خاص اثر نظر آتا ہے۔ ان کے ذاتی تجربات اور احساسات نے انکی شاعری میں،دوسرے شعراء کے مقابلہ میں زیادہ سچّائی اور گداز پیدا کیا اور محبت کی آمیزش نے اسے آفاقیت عطا کی۔
ان کی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انھیں 1971 میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1972 میں مہارازشر حکومت نے انھیں "جسٹس آف پیس" ایوارڈ دیا 1973 میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں" کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ" اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔ 1974 میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں 'اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ 8مارچ 2013ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ 1980 میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔
نظم: تاج محل
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
#geet #maurdu #urdupoetry #literaryforms #netjrf #paper2 #ugcnetpreparation #ugcneturdu #urdu