Insaan Bimaar Kyun Hota Hai? | Roohani Ilaj — Paish Lafz | Khwaja Shamsuddin Azeemi
Sultan Kya Hai | Ghulam Rasool Azeemi
0:00 / 0:00
Insaan Bimaar Kyun Hota Hai? | Roohani Ilaj — Paish Lafz | Khwaja Shamsuddin Azeemi
29 просмотров · 2 нед. назад
Sultan Kya Hai | Ghulam Rasool Azeemi
17 подписчиков
29 просмотров · 2 нед. назад
انسان بیمار کیوں ہوتا ہے؟ — روحانی علاج کے پیش لفظ کی تفصیلی وضاحت
آدمی اپنی زندگی وقت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں طے کرتا ہے — سو سال کی زندگی بھی لمحوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ان ٹکڑوں کے درمیان وہ سوچتا ہے، منصوبے بناتا ہے، اور ایک ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑے پر چلا جاتا ہے۔ وہ ایک ارادہ کرتا ہے، پھر ترک کر دیتا ہے — منٹوں میں، گھنٹوں میں، مہینوں اور سالوں میں۔ جن کیفیتوں کو وہ خودغرضی، مشکل، بیماری، پریشانی، بے عملی کہتا ہے، ان کے مقابل ایک کیفیت سکون ہے — اور یہ سب زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، حقیقت پر نہیں۔ انسانی دماغ کی ساخت ایسی ہے کہ وہ آسانی کی طرف دوڑتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے۔
انسانی دماغ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: یقین اور شک۔ شک شیطان نے آدم علیہ السلام کے دماغ میں ڈالا، اور اسی شک کی وجہ سے وہ جنت سے نکالے گئے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: اس کتاب میں کوئی شک نہیں۔ جس قدر شک زیادہ ہو گا، اسی قدر دماغی خلیوں میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہو گی۔ دماغی خلیے اعصاب کو چلاتے ہیں، اور اعصاب کی حرکت ہی انسانی زندگی ہے۔ اس لیے ٹوٹ پھوٹ سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہی نقصان بیماری بن جاتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اس کے اختیار میں ہے — وہ ٹوٹ پھوٹ کو کم یا زیادہ کر سکتا ہے۔ اس کا الٹ بھی سچ ہے: یقین صحت کی بنیاد ہے۔
انسان صرف مٹی کا پتلا نہیں، روح امرِ رب ہے۔ انسان اور حیوان دونوں روشنی پر چلتے ہیں، مگر انسان نے روشنی کی طرف کبھی توجہ نہیں کی۔ جب قوم میں شک یقین سے زیادہ ہو جائے تو اجتماعی آفات آتی ہیں: زلزلے، وبائیں، جنگیں۔ بیماری سے بچنے کا پہلا قدم: شک کی جگہ یقین پیدا کریں۔
حوالہ: کتاب روحانی علاج، پیش لفظ — خواجہ شمس الدین عظیمی
یہ روحانی/مذہبی تشریح ہے، طبی علاج کا متبادل نہیں؛ شدید بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
#RohaniIlaj #InsaanBimaarKyun #ShamsuddinAzeemi #RoohaniIlaj #SehatKaRaaz