Hijrat e Madina, Hijrat K Waqt Madina K Halaat, SEERAT UN NABI Course Lecture 85, Mufti Rasheed
Mufti Rasheed Official
0:00 / 0:00
Hijrat e Madina, Hijrat K Waqt Madina K Halaat, SEERAT UN NABI Course Lecture 85, Mufti Rasheed
2 687 просмотров · 1 день назад
Mufti Rasheed Official
181 тыс. подписчиков
2 687 просмотров · 1 день назад
Website Link
www.seerafyinstitute.com
Course Registration link:
https://tinyurl.com/SeeratcoursebyMuf...
00:00 Intro
02:35 Madina Munawwara Ki Zarkhezi or Ataam
09:56 Madina Munawwara Me Import
11:12 Madina K Bazaar
12:45 Madina Me Raij Mukhtalif Tijarti Maamalat
15:57 Riba Or Rehen K Maamalat
20:25 Madina Me Chote Bare Qabail
24:56 Aus o Khazraj Ka But or Qurani Ayaat Ki Tafseer
28:47 Madina Me Abaad Qabail Asal Me Kaha Se The?
31:40 Madina Me Abad Qabail Ka Mahall e Waqu
35:42 Aos o Khazraj K Bahami Taaluqat
37:41 Aos o Khazraj Ki Abadi
38:60 Aos o Khazraj K Log Siasi Tor Per Mazboot Kese Hwe?
51:02 Madina Me Yahodio Ki Muashi Position
51:58 Yahodio K Taleemi Idare
53:12 Madina K Siasi Halat
53:54 Madina Me Yahodio Ki Hakomat Ka Zawal
59:24 Musalmano Ki Amad Se Madina Ka Naya Social Order
57:06 Madina Ki Soortehal Ka Ajmali Khaka or Huzur SAW Ki Strategy
آج کے سبق کے اہم نکات:
1. کسی بھی strategic فیصلے کو سمجھنے کے لیے آبادی، جغرافیہ، پانی، معیشت، سیاسی نظام، معاہدات اور دفاعی صلاحیت کا درست data ضروری ہے۔ سیرت کا مطالعہ صرف واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق سمجھنے کے لیے ہے۔
2. مکہ کی معیشت بنیادی طور پر تجارت پر قائم تھی، جبکہ مدینہ کی معیشت زیادہ متنوع تھی۔ مدینہ زرخیز، سرسبز اور پانی کی فراوانی رکھنے والا علاقہ تھا؛ یہاں زراعت اور باغبانی اہم معاشی ذرائع تھے۔ مدینہ میں کھجور کے باغات، پانی، مویشی، مقامی صنعت، بازار اور تجارت سب موجود تھے۔
3. آطام مدینہ کی اہم دفاعی و رہائشی ساخت تھے؛ یہ صرف چھوٹے قلعے نہیں بلکہ نسبتاً مکمل محفوظ مراکز تھے۔ آطام میں پانی، خوراک کے ذخیرے، چارہ، عبادت گاہیں، اسلحہ اور مال محفوظ رکھنے کے انتظامات موجود ہوتے تھے۔
4. مدینہ کی آبادی مختلف قبائلی علاقوں اور بستیوں میں تقسیم تھی، اس لیے یہاں کی سماجی ساخت مکہ سے زیادہ پیچیدہ تھی۔
5. مدینہ کی بنیادی زرعی پیداوار کے باوجود اہل مدینہ کی تمام غذائی ضروریات مقامی پیداوار سے پوری نہیں ہوتی تھیں۔ جامع ترمذی کی روایت کے مطابق مدینہ میں کھجور اور جو بنیادی غذاؤں میں شامل تھے، جبکہ شام سے عمدہ غلہ بھی آتا تھا۔
6. مدینہ کے اہم معاشی ذرائع میں بازار اور تجارت بھی شامل تھے۔
7. سوق بنی قینقاع ایک معروف بازار تھا، جہاں زیورات، سونا، چاندی، کپڑے، عطریات اور دوسری اشیاء کی تجارت ہوتی تھی۔
8. زرعی معاملات میں مزارعہ، مؤاجرہ، مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ جیسے عقود رائج تھے۔ تجارتی معاملات میں نجش، تلقی الرکبان، بیع مصراۃ، نسیئہ، بیع الحاضر للبادی اور مجازفہ وغیرہ کا رواج تھا۔
9. مدینہ میں بعض غیر شرعی معاشی معاملات، خصوصاً سود، بھی رائج تھے۔ اوس و خزرج بھی سودی معاملات کرتے تھے، لیکن سودی نظام کا بڑا حصہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھا۔
10. یہودی زرعی ضرورت کے لیے عربوں کو قرض دیتے اور اس پر سود لیتے تھے، بعض معاملات میں رہن بھی لیا جاتا تھا۔
11. ہجرت کے وقت مدینہ کے پانچ بڑے قبائل میں اوس، خزرج، بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ شامل تھے۔
12. اوس و خزرج مذہبی اعتبار سے مشرک تھے، جبکہ بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ بڑے یہودی قبائل تھے۔
13. مدینہ میں ان تین بڑے یہودی قبائل کے علاوہ بیس سے زیادہ چھوٹے یہودی بطون بھی موجود تھے۔
14. اوس و خزرج کا معروف بت مَنات تھا، اور وہ زمانۂ جاہلیت میں اس سے متعلق مذہبی رسوم ادا کرتے تھے۔
15. اوس و خزرج اصل میں یمن کے قحطانی قبیلے ازد سے تعلق رکھتے تھے اور سیلِ عرم وغیرہ کے تاریخی پس منظر میں یثرب آئے۔ اوس و خزرج باہمی طور پر ایک ہی قحطانی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اور بنو قیلہ بھی کہلاتے تھے۔
16. اوس مدینہ کے جنوبی و مشرقی علاقے، یعنی عوالی میں، جبکہ خزرج وسطی و شمالی علاقے، یعنی سافلہ میں آباد تھے۔
17. جنگِ بعاث نے اوس و خزرج کے بڑے سرداروں کو قتل یا زخمی کرکے مدینہ کے سیاسی leadership structure کو شدید کمزور کردیا، اور ایک قیادی خلا پیدا ہوا۔
18. بنو نضیر اور بنو قریظہ حرّۂ واقم کے مشرقی حصے میں جبکہ بنو قینقاع شہر کے اندر آباد تھے؛ بنو قینقاع ہنرمندی اور دست کاری میں نمایاں تھے۔
19. یہودی قبائل کی مجموعی تعداد کا مستند مکمل شمار موجود نہیں؛ البتہ تین بڑے قبائل کے تقریباً 2000 سے کچھ زیادہ جنگجو بیان کیے گئے ہیں: قینقاع تقریباً 700، نضیر تقریباً 700، قریظہ تقریباً 700–900۔
20. رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد مدینہ میں ایک نیا Social Order تشکیل پایا؛ مختلف قبائل، یہودی، مہاجرین، بعد میں منافقین، سابقہ دشمنیاں، معاشی تفاوت اور بیرونی خطرات کو ایک منظم سیاسی و معاشرتی نظام میں ڈھالنا ایک بنیادی چیلنج تھا۔
#seerat
#seeratunnabi
#seerat_un_nabi
#seeratinurdu
#seeraturrasool
#muftirasheedkhursheed
#muftirasheedofficial
#muftirasheedahmedkhursheed
__
Follow us on Social Media:
Instagram: / @muftirasheedofficial
Youtube: / muftirasheedofficial
Youtube :
/ @muftirasheedspeeches
Facebook Page: / muftirasheedofficial
Facebook Page :
/ @muftirasheedspeeches
Tiktok: / muftirasheedofficial
Whatsapp Channel Link: https://whatsapp.com/channel/0029VaCo...
Pashto Youtube Channel: / @muftirasheedpashtospeeches
Pashto Facebook Page: / muftirasheedpashtospeeches
__
For any querry:
Email: muftirasheedofficial@gmail.com