MaaN ka khawab(Mother's Dream) - Nayyara noor sings Iqbal(iqbal bachoN k liye)
tauseefqau
0:00 / 0:00
MaaN ka khawab(Mother's Dream) - Nayyara noor sings Iqbal(iqbal bachoN k liye)
8 719 просмотров · 17 л. назад
tauseefqau
160 тыс. подписчиков
8 719 просмотров · 17 л. назад
Singer: Nayyara Noor
Poet: Muhammad Iqbal
Album title: Iqbal for kids
Book: Bang-i-Dara
Video credits: Iqbal Academy Pakistan
اقبال کی نظم "ماں کا خواب " ولیم بارنس کی نظم ۔۔۔۔
﴾The Mothers Dream ﴿ کا پابند ترجمہ ہے۔ گو اقبال نے اصل نظم کے مقابلے میں کچھ زیادہ تفصیلات پیش کی ہیں پھر بھی اس کو پابند ترجمہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس ترجمہ کو صرف اقبال کا مکمل اور کامیاب ترجمہ کہہ سکتے ہیں، بلکہ انگریزی سے اردو میں جو کامیاب ترجمے ہوئے ہیں ان میں اس کو با
آسانی شریک کر سکتے ہیں۔
ماں کا خواب
(ماخو ذ(
بچوں کے ليے
ميں سوئي جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
يہ ديکھا کہ ميں جا رہي ہوں کہيں
اندھيرا ہے اور راہ ملتي نہيں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھي
تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کي تھي
زمرد سي پوشاک پہنے ہوئے
ديے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسي سوچ ميں تھي کہ ميرا پسر
مجھے اس جماعت ميں آيا نظر
وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا
ديا اس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا
کہا ميں نے پہچان کر ، ميري جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائي ميں رہتي ہوں ميں بے قرار
پروتي ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماري ذرا تم نے کي
گئے چھوڑ ، اچھي وفا تم نے کي
جو بچے نے ديکھا مرا پيچ و تاب
ديا اس نے منہ پھير کر يوں جواب
رلاتي ہے تجھ کو جدائي مري
نہيں اس ميں کچھ بھي بھلائي مري
يہ کہہ کر وہ کچھ دير تک چپ رہا
ديا پھر دکھا کر يہ کہنے لگا
سمجھتي ہے تو ہو گيا کيا اسے؟
ترے آنسوئوں نے بجھايا اسے
i think for a person with critical mind, these infos will be interseting
اقبال نے انگریزی نظموں کو اردو کا قالب دیتے ہوئے حسبﹺ ذیل نظمیں لکھیں۔
۱۔ ایک مکڑی اور مکھی ﴿۱۱:۹﴾ ماخوذ لکھا، لیکن آزاد ترجمہ ہے
۲۔ ایک پہاڑ اور گلہری ﴿ ۱۵۳:۳﴾ ماخوذ ایمرسن لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے۔
۳۔ ایک گائے اور ایک بکری ﴿ ۱۷:۹﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے
۴۔ بچے کی دعا ﴿۹:۸ ﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے
۵۔ ہمدردی ﴿ ۱۹:۹ ﴾ ماخوذ از ولیم کوپر لکھا ۔ ماخو ذ ہے
۶۔ ماں کا خواب ﴿۲۲۵: ۳ ﴾ ماخوذ ۔ ماخوذ ہے ۵
۷۔ پرندے کی فریاد۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے
۸۔ پیامﹺصبح ﴿۱:۹: ۱ ﴾ ماخوذ از لانگ فیلو لکھا۔ ماخوذ ہے
۹۔ عشق اور موت ﴿۲۰۵﴾ ماخوذ از ٹینی سن لکھا ہے۔ ماخوذ ہے
۱۰۔ رخصت ائے بزمﹺ جہاں ﴿۱:۵۴۱ ﴾ ماخوذ از ایمر سن لکھا لیکن کامیاب منظوم ترجمہ ہے
۱۱۔ مرثیہ داغ ۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے
۱۲۔ گورستان شاہی۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے
۱۳۔ ایک پرندہ اور جگنو ۔ ﴿۵۹: ۳ ﴾ ماخوذ نہیں لکھا۔ آزاد منظوم ترجمہ ہے
۱۴۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے
۱۵۔ ابرکوہسار۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔
۱۶۔ ایک آرزو۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔
یہاں ماخوذ اور ترجمے کا فرق ذہین میں رکھنا ضروری ہے- اقبال نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا اور منظوم ترجموں کو بھی ماخوذ کہا ہے، جبکہ صرف سلسلہ نشان ۵، ۷، ۹، ۱۱، ۱۳، اور ۱۵ کو ہم ماخوذ کے رمزے میں شریک کر سکتے ہیں۔