Перейти к содержимому

Lahore Gangster Naji Butt Ki Mukamal Kahaani | Voice of Pakistan | Agha Abid Hussain

Voice of pakistan (Podcast)

0:00 / 0:00

Lahore Gangster Naji Butt Ki Mukamal Kahaani | Voice of Pakistan | Agha Abid Hussain

23 461 просмотр · 1 месяц назад
Voice of pakistan (Podcast)
3,56 тыс. подписчиков
23 461 просмотр · 1 месяц назад
Voice of Pakistan ki aaj ki video mein hum baat karein ge 90s ke daur mein Lahore ke sab se khaufnak aur barray underworld don 'Naji Butt' ki mukamal kahani par. Ek aam halwai ya samosay banane walay larke se lekar Lahore ke sab se barray gangster banne tak ka safar kaisa tha? Naji Butt par 19 se zayda qatal ke muqadmat thay aur us ne ek hi raat mein silsilawar qatal kar ke pooray Punjab ko hila kar rakh diya tha. Is video mein dekhiye: Naji Butt ka ibtidayi safar aur juraasht (crime world) mein anay ki wajah. Humayun Gujjar aur digar gangsters ke sath dushmani aur taluqaat. Us ke aakhri din aur police ke sath encounter/murder ki mukamal sachai. Lahore ki gang war ki tareekh ka ye ek aisa bab hai jo aap ko hairan kar dega. Video ko aakhir tak dekhein, pasand aaye to like, share aur channel ko subscribe zaroor karein! #NajiButt #lahoreunderworld #voiceofpakistan #truecrimepakistan #LahoreGangWar #pakistanhistory #gangsterstory Credits: Music: Limit Break by Soundridemusic Link to Video: • Epic Cinematic Trailer Teaser No Copyright... Follow Us on Facebook https://www.facebook.com/profile.php?... 00:01:11 میزبان حیدر کاظمی پروگرام کا آغاز کرتے ہیں اور پنجاب پولیس کے سابق دبنگ افسر آغا عابد حسین صاحب کا تعارف کرواتے ہیں۔ ناجی بٹ کا خاندانی پس منظر اور لاہور آمد 00:02:24 آغا عابد حسین بتاتے ہیں کہ ناجی بٹ کا تعلق پسرور (سیالکوٹ) کے گاؤں تارڑ سے تھا۔ اس کا بڑا بھائی سرور بٹ سب سے پہلے لاہور کے علاقے بھگت پورہ آیا، جہاں وہ ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اور بعد میں اپنے باقی بہن بھائیوں کو بھی لاہور لے آیا۔ ناجی بٹ کا ابتدائی کام اور چال چلن 00:04:03 ناجی بٹ شاد باغ کے ٹانگے والا چوک میں روف بیکری پر صبح پوڑیاں اور شام کو سموسے بیچنے کا کام کرتا تھا، لیکن اس کا اٹھنا بیٹھنا اچھے لوگوں میں نہیں تھا۔ طاہر رشید بٹ سے دشمنی کی اصل وجوہات 00:05:14 سوشل میڈیا پر چلنے والی کہانیوں (جیسے بھائی کو بھٹی میں جلانے کا قصہ) کی تردید کرتے ہوئے آغا صاحب بتاتے ہیں کہ اصل دشمنی جوے کے 15 ہزار روپے کے تنازع اور شاد باغ میں ایک غریب فیملی (کنواریاں دا گھر) کے مکان پر طاہر رشید بٹ کے قبضے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ نولکھا ٹرپل مرڈر (طاہر رشید بٹ کا قتل) 00:17:59 سال 1995 کا وہ سچا واقعہ جب ریلوے اسٹیشن کے سامنے لال مسجد کے پاس ایک ہوٹل پر طاہر رشید بٹ (جو اس وقت پولیس یونیفارم میں تھا) اپنے رشتہ داروں افتاب اور نصیر کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ ناجی بٹ نے موٹر سائیکل سے اتر کر کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کر کے تینوں کو موقع پر قتل کر دیا۔ لاہور کے دیگر بڑے جرائم میں ملوث ہونا 00:22:21 ناجی بٹ سیالکوٹ کے ببو خان، ہمایوں گجر، پھولا سنیارا اور حنیفہ گروپ کے ساتھ مل گیا۔ وہ ارشد امین چوہدری کے قتل، ایوانِ عدل کے باہر ٹیپو ٹرکاں والے پر حملے اور 12 ربیع الاول کو معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کے ہولناک واقعے میں ملوث تھا۔ گوجرانوالہ سے گرفتاری کا حقیقی واقعہ 00:29:00 ناجی بٹ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد میں ایک تین منزلہ مکان میں روپوش تھا۔ اس مکان کا مالک جعلی کرنسی کا دھندہ کرتا تھا۔ سی آئی اے گوجرانوالہ نے جب کرنسی ڈیلر کو پکڑنے کے لیے رات 12 بجے ریڈ کی، تو ناجی بٹ نے سمجھا کہ پولیس اسے پکڑنے آئی ہے اور اس نے فائرنگ کر دی۔ حوالات میں کانسٹیبل افضل کی پہچان 00:33:12 گرفتاری کے وقت ناجی بٹ نے خود کو سیالکوٹ کا "دشمن دار" ظاہر کیا اور پولیس اسے نہیں پہچانتی تھی۔ لیکن سی آئی اے کوتوالی گوجرانوالہ میں موجود ایک 50 سالہ کانسٹیبل افضل (جو پہلے شاد باغ لاہور میں تعینات رہا تھا) نے حوالات میں اسے دیکھ کر پہچانا کہ یہ لاہور کا سب سے بڑا اشتہاری ناجی بٹ ہے۔