14- Farz Uloom | Hazrat Umar | #questions #questionsandanswers حضرت عمر بن خطاب
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
14- Farz Uloom | Hazrat Umar | #questions #questionsandanswers حضرت عمر بن خطاب
100 просмотров · 10 ч назад
Allama Mansoor Maturidi
32,9 тыс. подписчиков
100 просмотров · 10 ч назад
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مرتبہ ہے اور وہ باقی سب سے افضل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نامِ نامی عمر بن خطاب، لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال 39 مردوں کے بعد چالیسویں نمبر پرایمان لائے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے دن سے اسلام کا غلبہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ہی کا لقب امیر المؤمنین ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ سفید سرخی مائل، دراز قد، چشمِ مبارک سرخ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں بہت فتوحات ہوئیں۔
سوال-2) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ سے کیا رشتہ ہے؟
جواب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی زوجۂ محترمہ تھیں۔
سوال-3) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ تحریر کریں-
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا تاریخِ اسلام کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمانوں کے سخت مخالف تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو ایمان کے نور سے منور فرمایا تو آپ اسلام کے عظیم محافظ اور رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار ساتھی بن گئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریش کے ایک بااثر اور بہادر شخص تھے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دے رہے تھے، تو قریش کے بہت سے سردار اس دعوت کی مخالفت کر رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ابتدا میں اسلام کے مخالف تھے اور مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔
لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کے لیے ہدایت کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کے دل کی کیفیت بدل دیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی اسلام کی طرف میلان پیدا ہونے کا وقت قریب آ گیا تھا۔
سیرت کی مشہور روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ اس دعوت کو روک دیں جس کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں مخالفت اور اختلاف پیدا ہو رہا تھا۔
راستے میں ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ اے عمر! کہاں جا رہے ہو؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارادے کا اظہار کیا تو اس شخص نے انہیں بتایا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، کیونکہ تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے شوہر سعید بن زید رضی اللہ عنہما اسلام قبول کر چکے ہیں۔
یہ خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اب انہوں نے پہلے اپنی بہن کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کے گھر پہنچے تو وہاں حضرت خباب بن اَرَت رضی اللہ عنہ موجود تھے، جو انہیں اور ان کے شوہر کو قرآنِ مجید کی تعلیم دے رہے تھے۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو حضرت خباب رضی اللہ عنہ چھپ گئے اور قرآنِ مجید کے اوراق چھپا دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن اور بہنوئی سے پوچھا کہ تم کیا پڑھ رہے تھے اور کیا تم نے واقعی اپنا دین چھوڑ دیا ہے؟
روایات کے مطابق، اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بہنوئی کو مارا اور اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔ جب انہوں نے اپنی بہن کے جسم سے خون بہتا دیکھا تو انہیں اپنی حرکت پر افسوس ہوا۔
ان کی بہن نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے عمر! تم جو چاہو کر لو، ہم اسلام قبول کر چکے ہیں اور اب اس سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
بہن کی ثابت قدمی دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ کم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ تم پڑھ رہے تھے، مجھے بھی دکھاؤ۔
ان کی بہن نے بتایا کہ پہلے پاک ہو لیجیے، پھر یہ صحیفہ پڑھیے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طہارت حاصل کی اور قرآنِ مجید کے اوراق پڑھے۔
ان اوراق پر سورۂ طٰہٰ کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھا تو ان کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ وہ کلام کی عظمت سے متاثر ہوئے اور ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہونے لگی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کے دل کی کیفیت بدل رہی تھی اور حق کو قبول کرنے کا جذبہ بیدار ہو رہا تھا۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآنِ مجید کی تلاوت کی اور ان کے دل پر اس کا اثر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت کہاں تشریف فرما ہیں؟
انہیں بتایا گیا کہ آپ ﷺ حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود ہیں، جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لے کر اس گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں تلوار کے ساتھ آتے دیکھا تو فکر مند ہوئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت عطا فرمائی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کے قریب آ کر انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو ہدایت عطا فرمائی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اس طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو گئے۔
سوال-4) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فاروق اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرنے والے تھے۔
فاروق کا معنی: حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔