Khalil Ur Rehman Qamar Poetry|خلیل الرحمان قمر کی شاعریؔ| CTN| Saiwa Art and Publications| Poetry
Saiwa Art and Publications
0:00 / 0:00
Khalil Ur Rehman Qamar Poetry|خلیل الرحمان قمر کی شاعریؔ| CTN| Saiwa Art and Publications| Poetry
482 просмотра · 3 года назад
Saiwa Art and Publications
992 подписчика
482 просмотра · 3 года назад
#khalilurrehmanqamar #khalilurrehmanqamarquotes #khaliltoktok #khalilurrehman #khalil_ur_rehman
#poetry #urdupoetry #urdupoetrylovers #bestpoetry #viral #viralvideo #viralpoetry
#saiwaartandpublications.
#saiwaartsociety
#poemoftheday #poetrylovers #poetrycommunity #poemsofinstagram #poems #instapoetry #poets #poet #writersofinstagram #poetsofinstagram
#loreleipoetry⠀ #punjabi #poetry #book #kudattan #punjabikavita #punjabishayari #punjabipoetry #kavita #shivkumarbatalvi
#punjabiwordings #follow #amanshayar #writersuniverse #poetrylovers #poetryoftheday #writersofinstagram #herwordisgold #poetryinmotion #globalagepoetry
#poetrycommunity #poetrysociety #poemoftheday #poetryisnotdead #writerscommunity #spilledwords #writingcommunity #creativewriting #writersconnection #igwritersclub
#tribeofpoets #heartofpoets #writingsociety #globalpoetcult #writerssociety #justlifequotes #poetrysending #specialrequest #nrhart #poetryandpearls
#lovepoemstonoone #beautyandherbeast #copyright #mondaycreekpublishingperfections
@NajamFellows @azrah-e-sukhan8506 @ShayariWala-Official
@tseries @punjabipoetrylover8970 @Discover_Digital_World @KhalilUrRehmanQamarFans @xebahakim
#poemoftheday #poetrylovers #poetrycommunity #poemsofinstagram #poems #instapoetry #poets #poet #writersofinstagram #poetsofinstagram
تقریب کی صدارت ملکِ پاکستان کے نامور ڈرامہ رائٹر (صدقے تمہارے ۔ میرا نام یوسف ہے ۔ ذرا یاد کر۔ پیارے افضل اور میرے پاس تم ہو ) جیسے شہرہ آفاق ڈراموں کے خالق۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم "لند ن نہیں جائوں گا " کے تخلیق کار اور کئی کئی ملین ویوز حاصل کرنے والے گیتوں کے تخلیق کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت اعلیٰ پائے کے شاعر اور بے حد خوبصورت ، نفیس اور شستہ انسان ، ایک ایسے انسان جو معاشرتی رویوں میں زوال پذیر ہوتی تہذیب اور منافقت کی کئی کئی تہوں میں پنہاں اس بے چہرہ عہد کی ریزہ ریزہ خواہشوں اور کٹی پھٹی خراشوں میں بکھرا ہوا ایک ایسا انسان جس کے ہونٹوں پر حرف حرف پیاس جم چکی ہے اور خدوخال آئینے سے اس قدر شرمندہ ہیں کہ دھندلے پڑ چکے ہیں اور وہ انسان گزشتہ زمانوں کی راکھ سے آئندہ زمانے کی محبتوں کا سراغ لگا رہا ہے حالانکہ راکھ کے ڈھیر میں دبی چنگاریاں اپنے آپ کو بے اماں سمجھ کر ہمیشہ دم توڑنے میں جلدی کرتے ہیں اور وہ اسی دبی ہوئی راکھ کی تہہ میں دبی چنگاریوں کی لو سے محبت ۔ امن ۔ آشتی اور تہذیب کا درس دینے میں ہمیشہ محوِ گام ہیں صرف اس لیے نہیں کہ معاشرہ بے حسی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور محبتوں کے چراغ جلانے والے نجانے کون سی منزلوں کو سدھار گئے اور لحظہ لحظہ ایک دوسرے کا حق مارتے۔ جھوٹ سے لتھڑے جملے بولتے اور سچ کی گردن دبوچ کر فقط اپنے فائدے کے لیے دوسروں کی خواہشوں اور ارمانوں کو روندتے انسان جنگلوں کے قانون سے بھی بدتر معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں اور کوئی کسی کا احساس کرنے کا روادار نہیں ایسے میں محترم جناب خلیل الرحمان قمر صاحب۔ محبت۔ امن۔ اخوت۔ رواداری اور تہذیب کا درس دیتے اپنے حصے کا کردار نبھاتے اس معاشرے کی تشکیل نو میں مصروف ہیں۔ اپنی شاعری میں جہاں وہ احساسات کی نرم پوروں کو چھوتے جذبات کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں وہی حالاتِ حاضرہ پر بھی نہایت عمیق نظر رکھتے ہوئے اپنے اشعار میں درد کی کئی جہات کو سموئے جاتے ہیں ۔ خلیل الرحمان قمر صاحب کی شاعری میں ہر وہ پہلو حد درجہ نمایاں نظر آتا ہے جو اس معاشرے میں بسنے والے ہر فرد کے وجود کا سرمایہ ہے ۔
لفط کتنے ہی تیرے پیروں سے لپٹے ہوں گے
تو نے جب آخری خط میرا جلایا ہو گا
تو نے جب پھول کتابوں سے نکالے ہوں گے
دینے والا بھی تجھے یاد تو آیا ہو گا ۔
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طواف ِ آرزو کرتے
مگر ان آرزوئوں کا بکھرنا بھی ضروری تھا۔
حالاتِ حاضرہ پر کوئی انہونی ہوتی ، یا ستم برپا ہوتا دیکھتے ہیں تو فی الفور کہہ اٹھتے ہیں۔۔
جب اپنے لوگوں نے مائوں بہنوں کے سر کی چادر اتار ڈالی
تو میں نے غیرت ہی مار ڈالی
میں خود سے اس دن مکر گیا ہوں
میں ڈر گیا ہوں۔
خلیل الرحمان قمر
میں خواہشوں کے عذاب لے کر چلا گیا ہوں
وہ دل وہ خانہ خراب لے کر چلا گیا ہوں
میں چھوڑ کر اپنی راہ تکتی اداس آنکھیں
جو بچ گئے تھے وہ خواب لے کر چلا گیا ہوں
انہیں کہو کہ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملوں گا
میں گردِ راہ کی نقاب لے کر چلا گیا ہوں۔
اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے
آپ گِر کر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے۔
Saiwa art and Publication is a well known name in the circles of Urdu Literature. Saiwa is providing platform for all of us to serve Urdu Literature and Saiwa publications is also proividing service for publishing any kind of literature related material for new all specially for new writers.
We have also a facebook page and you can join our channel through below link.
/ 348544311962190
The Stake Holder of this channels are as under :
Irfan Sadiq,
Dr. Sagheer Ahmed Sagheer,
Ali Sadaf
Samina Sayed.
Muhammad Asif Javed (Channel Admin)
Good literature will be shared on this channel of all poets and no illegitimate materail will be encoureged anyways.
Kindly come and join us for promoting our channel you are always welcome in this regard.
Thanks,