Khutba-e-Juma | Fazīlat-ush-Shaikh Abu Zubair Muhammad Hussain Rasheed Hafizahullah
JAMIA ABI BAKR AL-ISLAMIYYAH (OFFICIAL)
0:00 / 0:00
Khutba-e-Juma | Fazīlat-ush-Shaikh Abu Zubair Muhammad Hussain Rasheed Hafizahullah
14 просмотров · 13 ч назад
JAMIA ABI BAKR AL-ISLAMIYYAH (OFFICIAL)
2,46 тыс. подписчиков
14 просмотров · 13 ч назад
Khutba-e-Juma | Fazīlat-ush-Shaikh Abu Zubair Muhammad Hussain Rasheed Hafizahullah
خطبہ جمعہ | فضیلۃالشیخ أبو زبير محمد حسين رشيد حفظہ اللہ
السَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
خطبہ جمعہ | October 23, 2026
موضوع : قیامت کی نشانیاں اور دورِ حاضر کے فتنے
فضیلۃالشیخ أبو زبير محمد حسين رشيد حفظہ اللہ
سینئر مدرس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ
قیامت کی چھوٹی نشانیاں جو ظاہر ہو چکی ہیں یا ظاہر ہو رہی ہیں
• نبی کریم ﷺ کی بعثت اور وصال: آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ میری بعثت اور میرا وصال قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔
• علمِ دین کا اٹھ جانا اور جہالت کی کثرت: دینی علم کم ہوتا جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔
• ننگے پاؤں اور ننگے بدن رہنے والے چرواہوں کا اونچی اور عالی شان عمارتیں بنانے میں فخر کرنا: لوگ بلند و بالا محلات بنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔
• وقت میں برکت کا ختم ہونا: وقت بہت تیزی سے گزرے گا (سال ماہ کی طرح، مہینہ ہفتے کی طرح، اور دن گھڑی کی طرح محسوس ہوگا)۔
• مال و دولت کی فراوانی: مال اتنی کثرت سے بڑھے گا کہ لوگ صدقہ و زکوٰۃ لینے والا نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔
• قتل و غارت گری میں اضافہ : ناحق قتل عام عام ہو جائے گا۔
• والدین کی نافرمانی اور رشتہ داروں سے تعلقات توڑنا: اولاد والدین کی نافرمانی کرے گی اور صلہ رحمی ختم ہو جائے گی۔
• گانے باجے، بے حیائی اور نشہ آور چیزوں کی کثرت: فحاشی، رقص و سرود اور شراب نوشی عام ہو جائے گی۔
دورِ حاضر کے نمایاں فتنے
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ جن فتنوں سے دوچار ہے، ان میں درج ذیل اہم ہیں:
• فتنہ انکارِ حدیث اور تجدد پسندی (Modernism): دین کی تشریح میں من مانی کرنا اور احادیثِ صحیحہ کا انکار کرنا۔
• سیکولرازم اور مادیت پرستی: دین کو زندگی کے معاملات سے الگ سمجھنا اور صرف مادی ترقی و ہوسِ زر کو مقصدِ حیات بنا لینا۔
• فحاشی، سوشل میڈیا اور اخلاقی زوال: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بے حیائی، جھوٹی خبریں، اور اسلامی اقدار کے خلاف فکری یلغار۔
• سود اور حرام کمائی کا عام ہونا: معاشی نظام میں سود کا اس حد تک رچ بس جانا کہ اس سے بچنا مشکل ہو جائے۔
• سچے علمائے دین کی کمی: حقیقی اور ربانی علماء کی تعداد میں کمی اور جاہل و مفاد پرست لوگوں کا دینی معاملات پر قابض ہونا
ان فتنوں کے دور میں کیا کرنا چاہیے؟
• سچے علمِ دین سے وابستگی: قرآن و سنت کی طرف پلٹنا اور مستند علماء سے رہنمائی لینا۔
• فتنوں سے کنارہ کشی: جب فتنہ ظاہر ہو تو خاموشی اور تنہائی کو ترجیح دینا تاکہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے۔
• کثرت سے دعا اور استغفار: اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی کی دعا کرنا۔