Перейти к содержимому

بہت مشکل میں ہونا۔۔۔ اور کبھی آسان ہوجانا | ظفر اقبال کی خوب صورت غزل | Urdu Ghazal

Urdu Channel

0:00 / 0:00

بہت مشکل میں ہونا۔۔۔ اور کبھی آسان ہوجانا | ظفر اقبال کی خوب صورت غزل | Urdu Ghazal

627 просмотров · 2 недели назад
Urdu Channel
572 подписчика
627 просмотров · 2 недели назад
ہت مشکل میں ہونا۔۔۔ اور کبھی آسان ہوجانا یہ ایک ایسی غزل ہے جو انسانی زندگی کے اُن لمحوں کو آواز دیتی ہے جہاں آدمی کبھی مشکلات میں گھِر جاتا ہے، کبھی اپنے ہی باطن میں طوفان محسوس کرتا ہے، کبھی ہجوم میں تنہا ہوجاتا ہے اور کبھی اپنے وجود کے اندر ایک آباد ویرانی سے دوچار ہوتا ہے۔ غزل کا مطلع ہی زندگی کے ایک گہرے تضاد کو بیان کرتا ہے: بہت مشکل میں ہونا۔۔۔ اور کبھی آسان ہوجانا اگر کچھ بھی نہ ہوسکنا۔۔۔ تو بس حیران ہوجانا اس غزل میں طوفان، ویرانی، سفر، گھر، دالان، ہجوم اور تنہائی محض الفاظ نہیں بلکہ انسانی کیفیتوں کے خوب صورت استعارے بن کر سامنے آتے ہیں۔ شاعر کبھی خود کو حالات کے طوفان میں شامل ہوتا محسوس کرتا ہے اور کبھی اس سوال سے دوچار ہے کہ جب سفر کی شرط پوری کرنا ہی ہے تو انسان کو اپنی حیثیت اور شناخت کس طرح برقرار رکھنی چاہیے۔ غزل کے آخری اشعار میں تنہائی اور بے رابطگی کی کیفیت نہایت خوب صورتی سے سامنے آتی ہے: کبھی اِس بھیڑ سے باہر نکلنا۔۔۔ بھی تو ہو ممکن اکیلے بیٹھے بیٹھے۔۔۔ اِس قدر گُنجان ہوجانا اور پھر ایک معنی خیز اختتام: ظفر۔۔۔ رکھنا تھا آواز و ہوا سے رَابِطَہ کچھ تو بہت اچھا نہیں لگتا۔۔۔ یوں سنسان ہوجانا اگر آپ کو اردو غزل، اردو شاعری، فکر انگیز ادب اور خوب صورت شعری اظہار پسند ہے تو اس غزل کو ضرور سنیے، اپنی رائے کمنٹس میں لکھیے اور Urdu Channel 808 کو سبسکرائب کیجیے۔ غزل: ظفر اقبال پیشکش: Urdu Channel 808 #اردو_غزل #ظفر_جمیل #اردو_شاعری #غزل #UrduGhazal #UrduPoetry #ZafarJamil #UrduChannel808 #شاعری #اردو_ادب #ادب #فکر_انگیز_شاعری #غزل_خوانی #شعر_و_سخن #ادبی_دنیا