Перейти к содержимому

KIYA LUTA HAI MERA BACHA KIYA HAI

nazil naqvi poetry

0:00 / 0:00

KIYA LUTA HAI MERA BACHA KIYA HAI

24 просмотра · 12 дн. назад
nazil naqvi poetry
270 подписчиков
24 просмотра · 12 дн. назад
کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے اس لئے سایہ بن گیا ہوں تیرا جانتا ہوں کہ آسرا کیا ہے دیکھ کر اُس کو بت بنے ہو تم پوچھتے مجھ سے ہو خُدا کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے سرخ گالوں پہ بہ رہی ہے ندی کچھ بتاؤ ہمیں ہوا کیا ہے فیصلے کیوں سجا لئے تم نے دیکھ تو لو میری خطا کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے عشق سازی کے کارخانوں میں دردِ دل کیا ہے اور دوا کیا ہے خاک پھر سے میں, تو خُدا پھر سے آخر اس بار پھر نیا کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے روزِ محشر ہے ان نگاہوں میں تو جو دے گا ہمیں سزا کیا ہے شے ہر اک ہے وجود سے اُس کے جب وجہ ہے تو یے وجہ کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے سوختہ روح ہے جان بھی زخمی کیا فکر اب تیری ادا کیا ہے نازل, غالب ہے کہا اُن سے تم نہیں جانتے وفا کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے کیا لٹا ہے میرا بچا کیا ہے کوئی میرا میرے سوا کیا ہے نازل نقوی Nazil.naqvi.poetry #urdushayari #pakistanidrama #indian #india #ghazal