Перейти к содержимому

غزوہ بدر دردناک بیان // مولانا سید ہاشمی //

Waqar Khan

0:00 / 0:00

غزوہ بدر دردناک بیان // مولانا سید ہاشمی //

85 112 просмотров · 4 месяца назад
Waqar Khan
1,8 тыс. подписчиков
85 112 просмотров · 4 месяца назад
غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور سبق آموز واقعہ ہے، جو بظاہر ایک جنگ تھی مگر درحقیقت حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اگرچہ اسے “دردناک” کہنا مکمل طور پر درست نہیں، لیکن اس میں ایسے لمحات ضرور آئے جو دل کو ہلا دینے والے تھے۔ یہ واقعہ 17 رمضان المبارک 2 ہجری میں پیش آیا۔ ایک طرف صرف 313 مسلمان تھے، جن کے پاس نہ مناسب اسلحہ تھا اور نہ ہی مکمل تیاری، جبکہ دوسری طرف قریشِ مکہ کا ایک ہزار کا لشکر پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو کئی ایسے مناظر سامنے آئے جو انتہائی جذباتی تھے: بعض مسلمان اپنے ہی رشتہ داروں کے مقابل کھڑے تھے—باپ بیٹے کے سامنے، بھائی بھائی کے سامنے۔ یہ قربانی آسان نہیں تھی۔ صحابہ کرامؓ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں ہر رشتہ پیچھے چھوڑ دیا۔ میدانِ بدر میں کئی عظیم صحابہؓ شہید ہوئے، جن کی شہادت نے دلوں کو غمگین کر دیا، مگر ساتھ ہی ایمان کو مضبوط بھی کیا۔ ایک دردناک پہلو یہ بھی تھا کہ قریش کے کئی سردار مارے گئے، جن میں وہ لوگ بھی تھے جو پہلے اسلام کے سخت دشمن تھے۔ یہ انجام عبرت کا باعث بنا۔ لیکن اس سارے واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ: مسلمانوں کو اللہ کی مدد حاصل ہوئی فرشتوں کی مدد کا ذکر قرآن میں آتا ہے کمزور نظر آنے والا گروہ کامیاب ہوا غزوۂ بدر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ: حق پر ثابت قدم رہنا ہی اصل کامیابی ہے اللہ پر بھروسہ ہو تو کمزوری بھی طاقت بن جاتی ہے قربانی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں