Перейти к содержимому

غزل

MAQAMAT (musical heritage)

0:00 / 0:00

غزل

22 просмотра · 4 дня назад
MAQAMAT (musical heritage)
390 подписчиков
22 просмотра · 4 дня назад
غزل عرفان اللہ عرفان پرندے لوٹ کے اپنے ٹھکانے جانے لگے ہمارے ہاتھ میں آئے زمانے جانے لگے کسی کے ساتھ رہے تو کسی نے جانا نہیں کسی کے ساتھ رہے ہیں توجانے جانے لگے بڑوں کی آنکھ کی پھر بستیاں اجڑنے لگیں پرائے دیس کو بچے کمانے جانے لگے ہمارے دل میں بہت دیر تم اکیلے رہے پھر اس کے بعد کئی لوگ آنے جانے لگے پھر ایک روز وہ نکلے تلاش میں اپنی دیار و دشت و بیابان چھانے جانے لگے کہ راہ تکتی منڈیروں پے چاندنی اتری سمے کی اوٹ میں سپنے سہانے جانے لگے پھر ان کو آنے لگے یاد دوسرے کئی کام پھر اٹھ کے یار بہانے بہانے جانے لگے بلا سے سوئے نہیں عمر بھر کو پوری نیند ترے حضور میں شاعر تو مانے جانے لگے.