Перейти к содержимому

October 27, 202 ​​کیوں مرے شام و سحر ہو گئے آگے پیچھے | ثناء الحق ثاقب | غزلیں | Voice Bilal Badar

اُداس کیوں ہو

0:00 / 0:00

October 27, 202 ​​کیوں مرے شام و سحر ہو گئے آگے پیچھے | ثناء الحق ثاقب | غزلیں | Voice Bilal Badar

99 просмотров · 8 дн. назад
اُداس کیوں ہو
247 подписчиков
99 просмотров · 8 дн. назад
اردو شاعری کے مداحوں کے لیے ایک اور دلنشین پیشکش! ممتاز شاعر "ثناء الحق ثاقب" کی خوبصورت اور فکری غزل آپ کی خدمت میں پیشِ تنہائی اور ہجرت کے احساس میں ڈوبی ہوئی یہ آواز آپ کے دل کو ضرور چھو لے گی۔ غزل کے اشعار: کیوں مرے شام و سحر ہو گئے آگے پیچھے دیکھ کیا شمس و قمر ہو گئے آگے پیچھے؟ میں اور آواز مری، شب کے مسافر دونوں ساتھ نکلے تھے مگر ہو گئے آگے پیچھے وقت نے ہر دفعہ لکھوائی سرے سے املا جب کبھی زیر زبر ہو گئے آگے پیچھے جمگٹا ہو جہاں کووں کا وہیں آ جانا اس جزیرے پہ اگر ہو گئے آگے پیچھے! میں نہ کہتا تھا معلم! یہ نہ ہوگا مجھ سے حاشیے بارِ دیگر ہو گئے آگے پیچھے سب کو لگنے لگی اک روز یہ دنیا پردیس سبھی آغوش بَدر ہو گئے آگے پیچھے شاعر: ثناء الحق ثاقب آواز و پیشکش: بلال بدر (Bilal Badr) اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو لائک کریں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید خوبصورت شاعری سننے کے لیے چینل کو سبسکرائب کریں!